Get Alerts

چین کی امریکا ایران کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی کردار کی پیشکش

چین کی امریکا ایران کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی کردار کی پیشکش

بیجنگ: چین نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کی پیشکش کردی۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ چین مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے قیام کے لیے سفارتی کوششوں میں تعاون کرنا چاہتا ہے۔

چینی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے باعث خطے کے عوام کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، جبکہ موجودہ صورتحال عالمی برادری کے مفاد میں بھی نہیں ہے۔

شی جن پنگ نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی ذرائع کو استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے امن کے قیام اور صورتحال کو معمول پر لانے کی کوششوں میں چین کے ممکنہ کردار کا بھی عندیہ دیا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم ہونے کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آنے کا امکان ہے۔

ٹرمپ کے مطابق آبنائے ہرمز اور سعودی عرب سے متعلق معاملات بھی جلد بہتر ہوجائیں گے۔ انہوں نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ ایران سعودی عرب کی تیل کی پائپ لائن پر ہونے والے حملے میں ملوث ہوسکتا ہے۔

امریکی صدر نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو اپنا قریبی دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ صورتحال بالآخر بہتر ہوجائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ نومبر تک ختم ہوسکتی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کو دنیا کی بہترین فوج قرار دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز پر امریکا کا کنٹرول برقرار ہے۔

حوثیوں کے حوالے سے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ وہ امریکا کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی نہیں چاہتے۔ ان کے مطابق حوثیوں نے امریکا سے رابطہ کرکے واضح کیا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ واشنگٹن ان کے خلاف کوئی کارروائی کرے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ حوثی زیادہ تر بحری جہازوں کو آبنائے باب المندب سے گزرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا نے غزہ اور وینزویلا کے حوالے سے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔

ٹیگز: