Get Alerts

ترکیہ نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی پیشکش کر دی

ترکیہ نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی پیشکش کر دی

انقرہ: ترکیہ نے امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنے تعاون کی پیشکش کی ہے۔ ترک وزارت خارجہ کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ترکی کے دورے کے دوران ترک وزیر خارجہ حکان فدان امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان بات چیت کے ذریعے تناؤ کم کرنے کی کوشش کریں گے۔

ترک حکام کا کہنا ہے کہ ترکیہ موجودہ حساس حالات میں سفارتی ذرائع سے کشیدگی میں کمی لانے کے لیے مکمل تعاون کے لیے تیار ہے۔ دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات جمعہ کو متوقع ہے، جس میں علاقائی سیکیورٹی کی صورت حال اور امریکا-ایران تعلقات پر تفصیل سے بات چیت کی جائے گی۔

اس کے ساتھ ہی ترکی نے امریکا کی جانب سے ایران پر ممکنہ فوجی کارروائی کی صورت میں اپنی سرحدوں کی سیکیورٹی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ہنگامی منصوبوں پر غور کرنا شروع کر دیا ہے۔

ایک اعلیٰ ترک عہدیدار کے مطابق، اگر امریکا ایران پر حملہ کرتا ہے اور وہاں کی حکومت کمزور پڑتی ہے، تو ترکی اضافی اقدامات کے ذریعے اپنی سرحدی نگرانی مزید سخت کر دے گا۔

امریکی حکام نے حالیہ مہینوں میں ایران میں ہونے والے احتجاجات کے ردعمل میں فوجی مداخلت کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا، اور مشرق وسطیٰ کے پانیوں میں ایک امریکی طیارہ بردار بحری بیڑا بھی تعینات کیا جا چکا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ نیٹو کا رکن ترکیہ، جو ایران کے ساتھ 530 کلومیٹر طویل سرحد رکھتا ہے، ماضی میں بھی ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ ترکی نے ایران کی سرحد کے بعض حصوں پر پہلے ہی 380 کلومیٹر طویل دیوار تعمیر کر رکھی ہے، لیکن حکام کے مطابق موجودہ حالات میں یہ حفاظتی اقدامات ناکافی ثابت ہو سکتے ہیں۔
 
 

ٹیگز: