Get Alerts

امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی میں شدت، ایران نے جوابی حملوں کا آغاز کر دیا

امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی میں شدت، ایران نے جوابی حملوں کا آغاز کر دیا

واشنگٹن : امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری بمباری کے بعد ایران نے اسرائیل پر حملوں کی 19 ویں لہر کا آغاز کر دیا۔ ایران نے امریکی اور اسرائیلی فوج کے اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے 40 سے زائد میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے ہیں۔ ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں امریکہ اور اسرائیل کے 10 ڈرونز تباہ کر دیے گئے۔ ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکا و اسرائیل نے ایران کی حکومت تبدیلی کی کوشش کی تو وہ اسرائیل کی جوہری سائٹس کو نشانہ بنائیں گے۔

امریکی سینیٹ نے ایران پر حملے روکنے کے لیے صدر ٹرمپ پر دباؤ ڈالنے کی قرارداد کو 47 کے مقابلے 52 ووٹوں سے مسترد کر دیا۔ سینیٹ کی اکثریت نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی حمایت کی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا میں ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت موجود ہے۔

اسرائیل نے ایران کے مختلف شہروں پر بمباری کی ہے، جس سے ایرانی دارالحکومت تہران سمیت دیگر اہم شہروں میں تباہی آئی ہے۔ اسرائیلی فوج نے لبنان میں بھی حملے کیے، جس میں 3 افراد شہید اور 6 زخمی ہو گئے۔ لبنان میں اب تک اسرائیلی حملوں میں 75 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

سعودی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ سعودی فورسز نے الخرج سٹی کے قریب 3 کروز میزائل مار گرائے ہیں، تاہم اس کارروائی میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ اب کھلی جنگ شروع ہو چکی ہے اور اسرائیلی جارحیت کا جواب دینا ضروری ہے۔ انہوں نے اسرائیلی فوجی اڈوں پر حملے کرنے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ لبنان سے اسرائیل کا انخلا امن کی پہلی شرط ہے۔

ٹیگز: