تہران:ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اسرائیلی فضائی حملوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے، جس کا سخت اور فوری جواب دیا جائے گا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ"آج صبح صہیونی حکومت نے ایران کی سرزمین پر شیطانی اور خون آلود ہاتھوں سے حملہ کیا۔ رہائشی علاقوں کو نشانہ بنا کر دشمن نے اپنی فطرت کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے تصدیق کی کہ اسرائیلی حملوں میں تین اہم عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جن کے نتیجے میں کئی اعلیٰ ایرانی کمانڈرز اور جوہری سائنسدان شہید ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہایران کی مسلح افواج اس حملے کا منہ توڑ جواب دیں گی۔ دشمن کو اس جرم کی سخت سزا بھگتنا ہوگی۔"
اسرائیل کی جانب سے شروع کیے گئے فضائی حملوں کو "آپریشن رائزنگ لائن" کا نام دیا گیا ہے۔ ان حملوں میں پاسداران انقلاب کے سربراہ جنرل حسین سلامی، چیف آف اسٹاف جنرل محمد باقری، اور جوہری سائنسدانوں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔ تاہم ایرانی حکام کی جانب سے باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
ایران نے فی الحال اپنی دفاعی حکمتِ عملی کو ظاہر نہیں کیا، تاہم ملکی فضائی حدود کو محدود کرتے ہوئے امام خمینی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر تمام پروازیں معطل کر دی گئی ہیں، اور ملک بھر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے بھی ممکنہ ایرانی ردعمل کے پیشِ نظر ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ یروشلم سمیت مختلف شہروں میں سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
خطے میں کشیدگی کے باعث عالمی برادری کی جانب سے بھی فوری ردعمل اور تحمل کی اپیل متوقع ہے۔ مبصرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ تنازعہ کسی بڑے علاقائی تصادم کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔