Get Alerts

فنِ اداکاری کا ایک سنہری باب تمام: 'وارث' فیم نامور اداکار شجاعت ہاشمی انتقال کر گئے

فنِ اداکاری کا ایک سنہری باب تمام: 'وارث' فیم نامور اداکار شجاعت ہاشمی انتقال کر گئے

لاہور : پاکستان ٹیلی ویژن اور فلم انڈسٹری کے عہد ساز اداکار اور پرائیڈ آف پرفارمنس یافتہ شجاعت ہاشمی طویل علالت کے بعد خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ لواحقین کے مطابق مرحوم گزشتہ کچھ عرصے سے زیرِ علاج تھے، تاہم آج ان کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔
اہلخانہ نے تصدیق کی ہے کہ مرحوم کی نمازِ جنازہ آج رات 9 بجے جامعہ نعیمیہ، لاہور میں ادا کی جائے گی۔ جنازے میں شوبز سے وابستہ شخصیات، پرستاروں اور معززینِ شہر کی بڑی تعداد میں شرکت متوقع ہے۔
شجاعت ہاشمی نے اپنی جاندار اداکاری اور منفرد لہجے سے کئی دہائیوں تک ناظرین کے دلوں پر راج کیا۔ ان کے فنی کیریئر کے اہم پہلو درج ذیل ہیں۔ انہوں نے 1970 کی دہائی میں پی ٹی وی کے ڈرامے ’کہر‘ سے اپنے سفر کی بنیاد رکھی۔  شہرہ آفاق ڈرامہ سیریل ’وارث‘ میں ’مولا داد‘ کے لازوال کردار نے انہیں ملک گیر شہرت عطا کی اور وہ گھر گھر کی پہچان بن گئے۔ 1975 میں فلم ’چھڈ برے دی یاری‘ سے بڑے پردے پر قدم رکھا۔ 1979 کی تاریخی فلم ’خاک اور خون‘ میں ان کا مرکزی کردار آج بھی شائقین کو یاد ہے۔ فلم ’وڈا خان‘ اور ’دو ضدی‘ میں ان کی کارکردگی کو ناقدین نے بے حد سراہا۔
شجاعت ہاشمی کی فنی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں 1994 میں صدارتی اعزاز ’پرائیڈ آف پرفارمنس‘ سے نوازا تھا۔
ایک خلا جو کبھی پُر نہ ہوگا۔شجاعت ہاشمی کا انتقال پاکستان کے فنونِ لطیفہ کے لیے ایک عظیم نقصان ہے۔ وہ پی ٹی وی کے اس سنہری دور کے نمائندہ فنکار تھے جنہوں نے اداکاری کے اعلیٰ معیار قائم کیے۔

ٹیگز: