واشنگٹن / تہران : امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ایران کے خلاف جاری آپریشن کے حوالے سے انتہائی اہم اور سنسنی خیز دعوے کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا دفاعی نظام اب مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے اور اس کی میزائل بنانے کی صلاحیت کو جڑ سے اکھاڑ دیا گیا ہے۔ امریکی وزیر دفاع نے پینٹاگون میں پریس بریفینگ کے دوران دعویٰ کیا کہ ایران کی فضائی حدود اب مکمل طور پر امریکی کنٹرول میں ہیں۔ انہوں نے کہا، "ایران کا ایئر ڈیفنس اب قصہ پارینہ بن چکا ہے، ہمارے طیارے بغیر کسی مزاحمت کے ایرانی اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا تھا کہ امریکی فضائی حملوں نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور ڈرون فیکٹریوں کو اس حد تک تباہ کر دیا ہے کہ ایران اب جوابی حملے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔ ان کے مطابق، ایران کی میزائل سازی کی صلاحیت کو 100 فیصد ختم کرنے کا ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔
امریکی وزیر دفاع نے تصدیق کی کہ ایران کی نئی قیادت اب امریکی نشانے پر ہے۔ اطلاعات کے مطابق، ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ایک حالیہ حملے میں زخمی ہو چکے ہیں۔ اگرچہ تہران نے پہلے اس کی تردید کی تھی، لیکن اب ایرانی حلقوں سے بھی ان کی حالت تشویشناک ہونے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔
جنگ کی شدت پر بات کرتے ہوئے ہیگسیتھ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ یہ جنگ تب تک نہیں رکے گی جب تک تہران کی عسکری مشینری مکمل طور پر دفن نہیں ہو جاتی۔ انہوں نے خبردار کیا، "ایران کے خلاف اب کوئی نرمی یا رحم نہیں برتا جائے گا، دشمن کو اپنی بقا کے لیے اب غیر مشروط سرینڈر کرنا ہوگا۔
امریکی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹ ہیگسیتھ کے ان سخت بیانات کا مقصد ایرانی فوج کے حوصلے پست کرنا اور انہیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ ایران میں "حکومت کی تبدیلی" (Regime Change) کے ایجنڈے پر تیزی سے عمل پیرا ہے۔