یروشلم: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں امن معاہدے کو "تاریخی کامیابی" قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "آج مشرقِ وسطیٰ میں ایک تاریخی صبح طلوع ہوئی ہے، بندوقیں خاموش ہوچکی ہیں اور آئندہ نسلیں آج کی تبدیلی کو یاد رکھیں گی۔"
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ہمیشہ مشکل وقت میں اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہا اور اسرائیل نے جو کامیابی حاصل کی ہے وہ ہتھیاروں کے زور پر ممکن ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ "اسرائیل جیت گیا ہے، اب مشرقِ وسطیٰ میں امن ہونا چاہیے۔"
صدر ٹرمپ نے غزہ امن معاہدے کو خطے اور دنیا کے لیے غیر معمولی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عرب اور مسلم ممالک نے اس معاہدے کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق "یہ صرف جنگ کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئی امید کا آغاز ہے۔"
امریکی صدر نے کہا کہ "غزہ کے عوام کی توجہ اب تعمیرِ نو، استحکام، سلامتی، وقار اور معاشی ترقی پر ہونی چاہیے۔"
انہوں نے ایران کی جانب دوستی اور تعاون کے دروازے کھلے رکھنے کا اعلان کیا، تاہم خبردار کیا کہ ایران دوبارہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ "ہم نے ایرانی تنصیبات کو 14 بم گرا کر ختم کیا، اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے تو آج ہم یہاں نہ ہوتے۔"انہوں نے حزب اللہ کے خاتمے کو بھی امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کامیابی قرار دیا۔
امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو جنگ بندی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا"نیتن یاہو، تمہیں اب اچھا انسان بننا پڑے گا کیونکہ اب تم حالتِ جنگ میں نہیں ہو۔"انہوں نے مزید کہا کہ "اسرائیلی آرمی نے مشرقِ وسطیٰ میں شیطانی قوتوں کا خاتمہ کیا، اور آج اسرائیل دنیا بھر کے لیے فخر کی علامت بن چکا ہے۔"
صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ ان کی بیٹی ایوانکا نے یہودی مذہب قبول کیا ہے، اور دعا کی کہ یہ امن ہمیشہ قائم رہے۔انہوں نے کہا کہ "ہولوکاسٹ کے بعد 7 اکتوبر یہودیوں کے خلاف سب سے بڑا سانحہ تھا، مگر آج ہم نے ناممکن کو ممکن بنا دیا ہے۔"ٹرمپ نے آخر میں کہا کہ "غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے ’بورڈ آف پیس‘ تشکیل دیا جا رہا ہے، اور ہر کوئی چاہتا ہے کہ میں اس کا سربراہ بنوں۔"انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ "امن معاہدہ نہ صرف اسرائیل بلکہ پوری دنیا کے لیے کامیابی ہے۔"