نیویارک/ اسلام آباد : عالمی جریدے "ایشیا ٹائمز" نے اپنی حالیہ رپورٹ میں افغانستان کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ طالبان حکومت نے ملک کو داخلی جبر اور سرحد پار عسکریت پسندی کے مرکز میں تبدیل کر دیا ہے، جس سے پورے خطے کی سلامتی داؤ پر لگ گئی ہے۔
ہزاروں غیر ملکی جنگجوؤں کی موجودگی رپورٹ میں اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں اس وقت متعدد علاقائی اور عالمی عسکریت پسند تنظیموں کے ہزاروں غیر ملکی جنگجو موجود ہیں۔ ان مسلح گروہوں کی موجودگی نے نہ صرف پڑوسی ممالک بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
پاکستان میں دراندازی اور معاشی تنصیبات پر حملے رپورٹ کے مطابق افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرحد پار سے ہونے والے حملوں میں نہ صرف مقامی آبادی بلکہ غیر ملکی شہریوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ علاقائی اقتصادی تنصیبات پر حملے کر کے خطے کے معاشی استحکام کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
"ایشیا ٹائمز" نے طالبان کے داخلی ڈھانچے کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں مذہبی تشریح کو سیاسی کنٹرول کے ساتھ جوڑ کر ایک سخت گیر ریاستی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت بنیادی انسانی حقوق اور سیاسی آزادیوں کو بری طرح پامال کیا جا رہا ہے۔
عالمی برادری کا ردِعمل دوسری جانب، امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی نے بھی طالبان دور میں ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیشن نے سفارش کی ہے کہ "افغانستان میں مذہبی آزادی کی ابتر صورتحال کے پیشِ نظر اسے 'خصوصی تشویش کا ملک' (Country of Particular Concern) قرار دیا جائے۔"