Get Alerts

مشرقِ وسطیٰ میں نئی صف بندی: پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے 'چار فریقی اتحاد' کا ڈھانچہ تیار

مشرقِ وسطیٰ میں نئی صف بندی: پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے 'چار فریقی اتحاد' کا ڈھانچہ تیار

اسلام آباد : مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی جیو پولیٹیکل صورتحال اور امریکہ-ایران کشیدگی کے تناظر میں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر نے ایک نئے 'چار فریقی ڈھانچے' کو باقاعدہ شکل دینے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ماہرین نے اس نئے اشتراک کی حتمی تجاویز مرتب کر لی ہیں۔
ریاض میں ہونے والے وزرائے خارجہ کے پہلے اجلاس کے تسلسل میں اسلام آباد میں چاروں ممالک کے وفود جمع ہوئے۔ اجلاس کی قیادت درج ذیل شخصیات نے کی۔پاکستان: ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ طاہر انداربی،ترکیہ: نائب وزیر خارجہ سفیر موسیٰ کولاکلیکایا،مصر: اسسٹنٹ وزیر خارجہ سفیر نزیہ النگاری،۔سعودی عرب: ڈی جی وزارت خارجہ شہزادہ ڈاکٹر عبداللہ بن خالد بن سعود الکبیر۔
اس مشاورت کا مقصد ایک ایسا منظم گروپ تشکیل دینا ہے جو خطے میں تنازعات کی روک تھام اور اقتصادی ہم آہنگی کے لیے کام کر سکے۔ اجلاس میں تیار کی گئی تجاویز 17 اپریل کو ترکیہ کے شہر انطالیہ میں ہونے والے انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر وزرائے خارجہ کے سامنے پیش کی جائیں گی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق یہ اتحاد محض رسمی نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے بحرانوں کا جواب دینے کے لیے ایک عملی ضرورت بن کر ابھرا ہے۔ حالیہ فوجی تناؤ نے ان چاروں طاقتوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ روایتی طریقوں کے بجائے زیادہ قریبی ہم آہنگی پیدا کریں۔
تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینا: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے وفود سے ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ اس تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینا امن اور اقتصادی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔تجزیہ کار اس اقدام کو ایک "عملی ہم آہنگی" قرار دے رہے ہیں جس کا مقصد توانائی کی سلامتی اور عالمی سفارت کاری میں ان چاروں اہم مسلم ممالک کے اثر و رسوخ کو بڑھانا ہے۔

ٹیگز: