اسلام آباد: امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ انسانی حقوق سے متعلق حالیہ رپورٹ کوتنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے حقائق کی من پسند، جانبدار اور غیر متوازن تشریح قرار دیاگیا ہے۔ رپورٹ میں نہ صرف پاکستان کے جائز سیکیورٹی خدشات کو نظر انداز کیا گیا، بلکہ ملک میں جاری قانونی و ادارہ جاتی اصلاحات کو بھی تسلیم نہیں کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق انسانی حقوق کے موضوع کو بعض عالمی طاقتیں سیاسی دباؤ کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں، خاص طور پر اُن ممالک کے خلاف جو دہشت گردی اور اندرونی انتشار سے نبرد آزما ہیں۔ اس کے برعکس، فلسطین، مقبوضہ کشمیر اور دیگر دیرینہ اور شدید انسانی حقوق کے بحرانوں پر مسلسل مجرمانہ خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔
واضح کیاگیا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان جیسے حساس علاقوں میں سیکیورٹی اقدامات ریاست کی بقاء اور عوام کے تحفظ کے لیے کیے گئے ہیں۔ دہشت گردی کی حالیہ لہر نے ان علاقوں میں سیکڑوں شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی جانیں لی ہیں۔ ایسے حالات میں کوئی بھی ذمہ دار ریاست اپنی عوام کی جان و مال کے تحفظ سے غافل نہیں رہ سکتی۔
رپورٹ میں جبری گمشدگیوں سے متعلق دیے گئے اعداد و شمار کو مبالغہ آرائی پر مبنی قرار دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ متعدد کیسز میں لاپتہ افراد کے کالعدم تنظیموں سے روابط ثابت ہوئے ہیں۔ جہاں حقیقی شکایات موجود ہیں، وہاں انہیں قانون کے مطابق آزاد کمیشنز کے ذریعے مکمل شفافیت سے نمٹایا جا رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں تشدد کے خلاف مؤثر قانون سازی موجود ہے، جس پر عدالتی نگرانی میں سختی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تربیت اور احتساب کا عمل جاری ہے۔
میڈیا کی آزادی کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان میں آزاد میڈیا فعال ہے، اخبارات، ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تنقید اور اظہار رائے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ عدالتیں بھی اس آزادی کے تحفظ کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں اور صحافیوں کے خلاف کسی بھی غیر قانونی اقدام پر کارروائی کی جا رہی ہے۔
توہینِ مذہب کے قوانین کے بارے میں ترجمان نے کہا کہ یہ قوانین معاشرتی امن اور مذہبی ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے موجود ہیں۔ ان کا غلط استعمال روکنے کے لیے ریاستی سطح پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے حالیہ قانونی اصلاحات، جیسے کہ مسیحی اور سکھ برادریوں کے لیے شادی کے نئے قوانین، پاکستان کے عزم کا واضح ثبوت ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا آئین ہر شہری کو مذہب، زبان اور نسل کی بنیاد پر کسی بھی امتیاز کے بغیر بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے۔ محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے لیبر انسپیکشن کے نظام کو بہتر بنایا گیا ہے، ٹریڈ یونینز کی رسائی کو وسعت دی گئی ہے، اور کم عمری کی شادی جیسے مسائل کے خلاف موثر کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
ترجمان نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا کہ پاکستان بیرونِ ملک مخالفین کو نشانہ بنا رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی بین الاقوامی کارروائیاں صرف ان عناصر کے خلاف ہوتی ہیں جنہیں عالمی سطح پر دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہے۔
آخر میں ترجمان نے افغان مہاجرین کے حوالے سے کہا کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے 23 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے، بغیر کسی معاہدے یا عالمی ذمہ داری کے۔ یہ انسان دوستی کی ایک ایسی مثال ہے جس کی دنیا بھر میں نظیر نہیں ملتی۔