اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر اہمیت دی جا رہی ہے۔ یورپی سوشل ڈیموکریٹک حلقوں سے وابستہ جریدے آئی پی ایس جرنل میں شائع مضمون ’’پاکستان: دی پیس میکر‘‘ میں اسلام آباد کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان اہم رابطہ کار قرار دیا گیا ہے۔
مضمون کے مطابق پاکستان نے کشیدگی کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے کا مؤثر راستہ برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا اور اعلیٰ سطح کے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں مدد دی۔ جریدے نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کو بھی اس عمل کا اہم حصہ قرار دیا۔
آئی پی ایس جرنل کے مطابق پاکستان کی امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ دیرینہ روابط، ایران کے ساتھ طویل سرحد اور خطے میں اس کی جغرافیائی حیثیت اسلام آباد کو ثالثی کے لیے منفرد مقام فراہم کرتی ہے۔ مضمون میں کہا گیا کہ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے کے لیے خاموش اور محتاط سفارت کاری کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں 1979 کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی۔
رپورٹ میں اسلام آباد میمورنڈم کو بھی اہم سفارتی فریم ورک قرار دیا گیا ہے۔ جریدے کے مطابق اگرچہ یہ معاہدہ اس وقت دباؤ کا شکار ہے، تاہم وسیع تر علاقائی جنگ سے بچنے اور امریکا ایران تنازع کے سفارتی حل کی جانب پیش رفت کے لیے یہ اب بھی ایک اہم فریم ورک کی حیثیت رکھتا ہے۔
مضمون میں یورپ کے لیے بھی پاکستان کے ساتھ تعاون کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی نظام میں علاقائی طاقتوں کے ساتھ شراکت داری یورپی سفارت کاری کو مزید مؤثر بنا سکتی ہے۔ مصنف کے مطابق پاکستان کا کردار اس بات کی مثال ہے کہ موجودہ کثیر قطبی عالمی ماحول میں علاقائی ممالک امن مذاکرات میں بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔