Get Alerts

صدر مملکت اور وزیراعظم کا بونڈائی بیچ حملے پر گہرے رنج و غم کا اظہار

صدر مملکت اور وزیراعظم کا بونڈائی بیچ حملے پر گہرے رنج و غم کا اظہار

اسلام آباد: پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے سڈنی کے بونڈائی بیچ پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر متاثرہ خاندانوں سے گہری تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے اثرات کو بخوبی سمجھتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف اپنے اصولی موقف پر قائم ہے۔ انہوں نے معصوم شہریوں کے خلاف تشدد کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے اس مشکل گھڑی میں آسٹریلیا کی حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ صدر مملکت کا کہنا تھا کہ ایسے حملے انسانیت کے خلاف ہیں اور ان کا ہر صورت میں مقابلہ کیا جانا چاہیے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کی ہر شکل کی مذمت کرتا ہے اور مشکل وقت میں آسٹریلیا کے عوام اور حکومت کے ساتھ کھڑا ہے۔ وزیراعظم نے آسٹریلوی ہم منصب کو اپنے تعزیتی پیغام میں مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر جنگ لڑ رہا ہے اور اس درد کو بخوبی سمجھتا ہے۔

وزیر داخلہ و چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے بھی اس حملے کی سخت مذمت کی اور کہا کہ دہشت گردی انسانیت کے خلاف ناقابل معافی جرم ہے، جس کا پاکستان روزانہ کی بنیاد پر سامنا کرتا ہے۔ محسن نقوی نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا بھر میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے بھی اس سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان میں تعینات آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین کو فون کیا۔ گورنر سندھ نے کہا کہ اس دکھ کی گھڑی میں ہر پاکستانی آسٹریلیا کے ساتھ کھڑا ہے۔

آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین نے سڈنی حملے کو "سیاہ دن" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حملے میں لوگوں کی زندگیاں بچانے والے مسلمان شہری کو آسٹریلیا کا ہیرو مانا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نے اپنے جان پر کھیل کر کئی جانوں کو بچایا، اور اس کے اس بہادری پر آسٹریلوی عوام کا دل فخر سے بھر گیا۔

یاد رہے کہ 14 دسمبر کو سڈنی کے بونڈائی بیچ پر دہشت گردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوگئے تھے، جن میں 2 پولیس اہلکار اور بچے بھی شامل تھے۔ یہ واقعہ آسٹریلیا میں دہشت گردی کے حوالے سے ایک سنگین حملہ سمجھا جا رہا ہے۔

ٹیگز: