Get Alerts

سڈنی دہشت گردی پر اسرائیل، بھارت اور افغانستان کا پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا بے نقاب

سڈنی دہشت گردی پر اسرائیل، بھارت اور افغانستان کا پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا بے نقاب

سڈنی : آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں دہشت گردی کی ایک کارروائی کے دوران متعدد افراد ہلاک اور 40 افراد زخمی ہوئے، جن میں 2 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور ہلاک ہوگیا جبکہ دوسرے کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔ اس واقعے کے دوران ایک کار سے دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا۔

دہشت گردانہ حملے کے بعد اسرائیل اور بھارت سمیت بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے اس حملے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی۔ اسرائیلی اخبار "یروشلم" نے بغیر کسی تصدیق کے حملہ آوروں کو پاکستانی قرار دینے کی کوشش کی، جبکہ بھارتی ایجنسی "را" سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے پاکستان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا شروع کر دیا۔

پاکستان کے ریکارڈ اور آسٹریلوی حکام کے مطابق، حملے میں ملوث ساجد اکرم اور نوید اکرم کا پاکستانی ہونے کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ساجد اکرم کا تعلق پاکستان سے نہیں ہے اور ان کے پاکستانی ہونے کی کوئی اطلاع موجود نہیں۔

بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا نے ساجد اکرم کے بارے میں جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈا کیا، یہ دعویٰ کیا گیا کہ وہ ٹورسٹ ویزا پر آسٹریلیا گیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ساجد اکرم 1998 میں سٹوڈنٹ ویزا پر آسٹریلیا پہنچا اور 2001 میں آسٹریلوی خاتون وارینا سے شادی کے بعد اس کا ویزا پارٹنر ویزا میں تبدیل ہو گیا۔ آسٹریلوی ہوم منسٹر ٹونی بیورک کا بیان بھی ان حقائق کی توثیق کرتا ہے۔

ساجد اکرم 10 سال سے آسٹریلیا کے گن کلب کا ممبر تھا اور اس کے پاس 6 لائسنس شدہ ہتھیار موجود تھے۔ مزید یہ کہ اطلاعات کے مطابق ساجد اکرم کا تعلق افغانستان کے صوبے ننگر ہار سے تھا، جو دہشت گردی کی عالمی طور پر معروف جگہ بن چکا ہے۔ واقعے کے دوران فائرنگ کا طریقہ واردات افغان طالبان کی کارروائیوں سے مماثلت رکھتا ہے۔

یہ تمام معلومات اور حقائق اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ اسرائیل، بھارت اور افغانستان نے پاکستان کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کرنے کی ناکام کوشش کی، اور ان کا مقصد دہشت گردی کے اس واقعے کو پاکستان سے جوڑنا تھا، حالانکہ حقیقت کچھ اور ہے۔

ٹیگز: