تہران/تل ابیب :ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تصادم نے اس وقت ہولناک رخ اختیار کر لیا جب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے 'آپریشن وعدہ صادق 4' کے تحت حملوں کی 54ویں لہر کا آغاز کر دیا۔ ان حملوں میں نہ صرف اسرائیلی شہروں کو نشانہ بنایا گیا بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر بھی میزائلوں کی بارش کر دی گئی۔
دفاعی تاریخ میں پہلی بار ایران نے اپنے سب سے خطرناک 'سیجل' (Sejjil) میزائل کا استعمال کیا ہے۔ 2 ٹن وزنی وار ہیڈ سے لیس اس میزائل نے صیہونی اہداف پر قیامت ڈھا دی۔ اس کے ساتھ ساتھ خیبر شکن، خرمشہر، قادر اور عماد میزائلوں نے اسرائیلی دفاعی نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تل ابیب میں ہونے والی تباہی کے مناظر لرزہ خیز ہیں۔ میزائلوں کے براہِ راست لگنے سے درجنوں عمارتیں اور گاڑیاں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ شہر کے کئی علاقوں میں ہولناک آگ بھڑک اٹھی۔ اب تک 100 سے زائد اسرائیلیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے ایک باضابطہ بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے اگر بچوں کا قاتل مجرم نیتن یاہو زندہ ہے تو اس کا پیچھا جاری رکھیں گے اور اسے پوری قوت سے کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے۔
اسی کارروائی کے دوران متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی فضائی اڈے کو بھی 10 میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا ہے، جس نے واشنگٹن میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔