Get Alerts

ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنا سکتا، معاہدہ نہ ہوا تو دوبارہ جنگی کارروائیوں کیلئے تیار ہیں: امریکی وزیرِ دفاع

ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنا سکتا، معاہدہ نہ ہوا تو دوبارہ جنگی کارروائیوں کیلئے تیار ہیں: امریکی وزیرِ دفاع

واشنگٹن: امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین نے پینٹاگون میں ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایران کو سخت ترین وارننگ جاری کر دی ہے۔ امریکی قیادت نے واضح کیا ہے کہ ایران کی ہر فوجی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا رہی ہے اور آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی مداخلت کا جواب سخت فوجی کارروائی سے دیا جائے گا۔
امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ہماری مذاکراتی ٹیم ایران کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے، لیکن اگر ایران نے عقل مندی کا مظاہرہ نہ کیا اور معاہدہ طے نہ پایا تو امریکی افواج دوبارہ بھرپور جنگی کارروائیاں شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ "ایران کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا، یہ ہمارا حتمی فیصلہ ہے۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کے دعووں پر تبصرہ کرتے ہوئے پیٹ ہیگستھ کا کہنا تھا کہ ایران کی اپنی کوئی منظم بحریہ نہیں رہی، بین الاقوامی پانیوں میں تجارتی جہازوں کو روکنا بحری قزاقی اور دہشت گردی ہے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوشش کی تو اس کا بچا کھچا فوجی انفراسٹرکچر تباہ کر دیا جائے گا۔
وزیرِ دفاع نے انکشاف کیا کہ امریکا کو علم ہے کہ ایران بمباری سے تباہ شدہ میزائل لانچرز کو دوبارہ نکال کر فعال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم جانتے ہیں کہ آپ کون سے فوجی اثاثے منتقل کر رہے ہیں، ہمارا اور آپ کی صلاحیتوں کا کوئی مقابلہ نہیں۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے پریس کانفرنس کے دوران بحری ناکہ بندی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا    ناکہ بندی کا اطلاق ایرانی علاقائی حدود اور بین الاقوامی پانیوں، دونوں پر ہوگا۔    ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے والے یا وہاں سے نکلنے والے ہر جہاز کو روکا جائے گا، چاہے اس کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو۔    ایران کی مدد کرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کا تعاقب کیا جائے گا۔
امریکی حکام نے امید ظاہر کی کہ ایران اپنی اوقات اور پہنچ کے مطابق معاہدہ کرے گا، ورنہ امریکی بحریہ کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور معاشی ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ضرورت محسوس کی گئی۔

ٹیگز: