برلن : جرمنی نے ایران کے خلاف فوجی تعاون کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا ہے۔ جرمن وزیر دفاع نے واضح کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا نیٹو (NATO) سے کوئی تعلق نہیں اور جرمنی اس تنازع میں فریق نہیں بنے گا۔
جرمن وزیر دفاع بورس پستوریئس نے امریکی مطالبے پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا صدر ٹرمپ ہم سے کیا توقع رکھتے ہیں؟ جو کام دنیا کی طاقتور ترین امریکی بحریہ نہیں کر سکی، وہ آبنائے ہرمز میں ایک یا دو یورپی جنگی جہاز کیسے کر لیں گے؟۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ جنگ ہم نے شروع نہیں کی، اس لیے ہم اس کا حصہ بھی نہیں بنیں گے۔ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال خالصتاً ان کا اپنا معاملہ ہے۔جرمن چانسلر کے ترجمان سٹیفن کونیلیوس نے وضاحت کی کہ نیٹو ایک علاقائی دفاعی اتحاد ہے اور ایران کے خلاف کارروائی کے لیے اس کے پاس کوئی قانونی مینڈیٹ موجود نہیں۔
جرمنی نے لبنان میں اسرائیلی زمینی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے انسانی المیہ قرار دیا اور اسرائیل و لبنان کے درمیان فوری مذاکرات پر زور دیا۔