اسلام آباد: معرکۂ حق میں تاریخی فتح کے بعد آج ملک بھر میں یومِ تشکر عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ دن کا آغاز مساجد میں قرآن خوانی اور خصوصی دعاؤں سے کیا گیا، جس میں ملک کی سلامتی، ترقی اور شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 31 توپوں جبکہ چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں 21، 21 توپوں کی سلامی دی گئی، جو اس دن کی عظمت اور قومی جذبے کی عکاسی کرتی ہے۔
پاک فوج کے چاق و چوبند دستوں نے نعرۂ تکبیر "اللہ اکبر" کے فلک شگاف نعروں کے ساتھ ملک سے وفاداری اور قربانی کے عہد کی تجدید کی۔ اس موقع پر فوجی جوانوں نے پاکستان کی بقا، امن اور استحکام کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔
یومِ تشکر کے موقع پر مزارِ قائد (کراچی) اور مزارِ اقبال (لاہور) پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقاریب منعقد ہو رہی ہیں، جبکہ ملک بھر میں یادگارِ شہداء پر پھول چڑھائے جا رہے ہیں اور شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ وفاقی اور صوبائی دارالحکومتوں میں پرچم کشائی کی تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں، جہاں قومی ترانے کی گونج اور سلامی کے مناظر نے وطن سے محبت کے جذبے کو مزید پروان چڑھایا۔
یومِ تشکر کی مرکزی تقریب پاکستان مونومنٹ، اسلام آباد میں ہو رہی ہے، جہاں وزیراعظم پاکستان مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک ہیں۔ تقریب میں مسلح افواج کے سربراہان، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور دیگر اعلیٰ سول و عسکری حکام بھی موجود ہیں۔ یہ دن پوری قوم کے اتحاد، قربانی اور ایمان افروز جدوجہد کا مظہر ہے، جس نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان ایک پرامن، مضبوط اور ناقابل تسخیر ریاست ہے۔