اسلام آباد: وزیراعظم نے برآمدات اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے ایک اہم اور تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے درآمدی محصولات (ٹیرف) میں نمایاں کمی کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد ملکی معیشت کو مستحکم بنانا، برآمدات کو بڑھانا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور مہنگائی پر قابو پانا ہے۔
یہ فیصلہ وزیراعظم کی زیر صدارت نیشنل ٹیرف پالیسی سے متعلق ایک اہم اجلاس میں کیا گیا، جس میں ملک کے معاشی مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے بنیادی نوعیت کی معاشی اصلاحات پر تفصیل سے غور کیا گیا۔ وزیراعظم نے ہدایت دی کہ اضافی کسٹمز ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی کو آئندہ چار سے پانچ سال میں مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔
انہوں نے کسٹمز ڈیوٹی کی زیادہ سے زیادہ حد 15 فیصد تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا، جبکہ موجودہ حالات میں بعض اشیاء پر یہ شرح 100 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ ڈیوٹی کی شرحوں کو سادہ اور مؤثر بنانے کیلئے اب صرف چار سلیبز رکھے جائیں گے، جس سے درآمدی نظام میں پیچیدگیوں میں کمی آئے گی اور صنعتوں کو مساوی مواقع میسر آئیں گے۔
وزیراعظم کے مطابق یہ قدم برآمدات پر مبنی ترقی کی بنیاد رکھے گا، بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کرے گا اور ملک میں صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کو سستے داموں خام مال اور سرمایہ جاتی اشیاء دستیاب ہوں گی، جس سے پیداواری لاگت میں کمی آئے گی اور مقامی صنعتوں کی مسابقت میں اضافہ ہوگا۔
وزیراعظم نے زور دیا کہ حکومت کا اولین ہدف مہنگائی پر قابو پانا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے حصول کیلئے ملکی و غیر ملکی ماہرین معیشت کی مشاورت سے ایک جامع منصوبہ تیار کیا گیا ہے، جس پر عمل درآمد کیلئے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ اجلاس میں وفاقی وزراء جام کمال خان، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔