کراچی: شہرِ قائد کی سٹی کورٹ میں ہائی پروفائل 'انمول پنکی کوکین کیس' کی سماعت کے دوران اس وقت شدید ہنگامہ آرائی اور سنسنی خیز مناظر دیکھنے کو ملے جب نامزد ملزمہ کو سخت سیکیورٹی میں چہرہ ڈھانپ کر عدالت میں پیش کیا گیا۔ ملزمہ نے عدالت پہنچتے ہی شدید چیخ و پکار شروع کر دی، جس کے باعث پولیس اہلکاروں اور میڈیا نمائندوں کے درمیان دھکم پیل ہوئی۔
سماعت کے دوران جوڈیشل میجسٹریٹ نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ "اس کیس میں نامزد ملزم قمر کون ہے؟" جس پر تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم قمر مقدمے میں مفرور ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ تفتیشی افسر نے عدالت سے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے کہا "کراچی میں منشیات کی سپلائی کے اس بڑے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کے لیے تمام ملزمان سے مزید تفتیش انتہائی ضروری ہے، لہٰذا تحقیقات کو آگے بڑھانے کے لیے ملزمہ کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔
دوسری جانب ملزمہ انمول پنکی کے وکیل نے پولیس کی استدعا کی شدید مخالفت کی اور عدالت سے درخواست کی کہ ملزمہ کو پولیس تحویل میں رکھنے کے بجائے فوری طور پر جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جائے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد جسمانی ریمانڈ سے متعلق فیصلہ کچھ دیر کے لیے محفوظ کر لیا۔ اس کیس نے کراچی کے بااثر اور پوش حلقوں میں مہنگی منشیات سپلائی کرنے والے گروہ کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات کا امکان پیدا کر دیا ہے۔