تہران / راولپنڈی : پاکستان نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے ایک بار پھر کلیدی کردار سنبھال لیا ہے۔ پاک فوج کے سربراہ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران کا اہم دورہ کیا ہے، جہاں انہوں نے ایرانی صدر اور اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دورہ پاک امریکہ ایران سہ فریقی تعلقات میں برف پگھلانے اور سفارتی ثالثی کی کوششوں کا حصہ ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران میں مصروف دن گزارا، جس کے دوران درج ذیل ملاقاتیں ہوئیں۔ فیلڈ مارشل نے ایرانی صدر سے تفصیلی ملاقات کی، جس میں علاقائی سیکیورٹی اور امریکہ کے ساتھ حالیہ ڈیل کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے ساتھ ملاقات میں دوطرفہ تعاون اور سفارتی تنازعات کے حل کے لیے پاکستان کے کردار پر بات چیت کی گئی۔
ترجمان پاک فوج (ISPR) کے مطابق، فیلڈ مارشل کا یہ دورہ خالصتاً سفارتی ثالثی کے مشن پر مبنی ہے۔ پاکستان کا مقصد ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کر کے ایک ایسے معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے جس سے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کو فائدہ پہنچے۔
اس دورے اور صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات کو جوڑ کر دیکھا جائے تو درج ذیل اہم پیش رفت سامنے آئی ہیں۔ پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں ایران ایٹمی ہتھیاروں سے دستبرداری اور افزودہ یورینیم کی منتقلی پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔
اس ڈیل کی کامیابی سے پاکستان کے لیے ایران کے ساتھ تجارتی اور توانائی کے منصوبے (جیسے گیس پائپ لائن) مکمل کرنا آسان ہو جائے گا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ان کوششوں کو عالمی سطح پر، بالخصوص واشنگٹن میں، انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔