تہرا
تہران: ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز کو تجارتی بحری جہازوں کے لیے کھولنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، تاکہ خطے میں تجارتی نقل و حرکت اور عالمی بحری تجارت متاثر نہ ہو۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ لبنان میں دس روزہ جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سے تمام تجارتی بحری جہازوں کی آمد و رفت جنگ بندی کی باقی مدت کے دوران بلا رکاوٹ ممکن ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام عالمی تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
عباس عراقچی نے واضح کیا کہ جہازوں کی آمد و رفت اُس مربوط اور منظم راستے کے مطابق ہوگی جس کا پہلے ہی ایرانی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن نے اعلان کر دیا ہے۔ یہ ادارہ ایران کے ماتحت کام کرتی ہے اور پانی کے اس اہم راستے کے محفوظ اور منظم استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ذمہ دار ہے۔
واضح رہے کہ یہ اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لبنان اور اسرائیل کے درمیان دس روزہ جنگ بندی کے اعلان کے ایک روز بعد سامنے آیا۔ اس جنگ بندی کو خطے میں امن قائم کرنے اور تجارتی روابط کو برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
In line with the ceasefire in Lebanon, the passage for all commercial vessels through Strait of Hormuz is declared completely open for the remaining period of ceasefire, on the coordinated route as already announced by Ports and Maritime Organisation of the Islamic Rep. of Iran.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) April 17, 2026
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے کھلے رہنے سے نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے میں تجارتی جہازوں کی روانی میں آسانی ہوگی اور عالمی مارکیٹ میں توانائی اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں کم ہوں گی۔ اس کے علاوہ یہ قدم ایران کی طرف سے خطے میں استحکام اور بین الاقوامی تجارتی ذمہ داریوں کے سلسلے میں اعتماد پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔