تحریر: چوہدری عامر بشیر انجم
بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ میں کچھ لمحات ایسے آتے ہیں جو جغرافیائی سرحدوں سے نکل کر عالمی تاریخ کا رخ موڑ دیتے ہیں۔ آج جب ہم اپریل 2026 کے تناظر میں عالمی نقشے پر نظر ڈالتے ہیں، تو آبنائے ہرمز سے اٹھنے والی امن کی لہریں ایک نئے پاکستان کا پتہ دے رہی ہیں۔ یہ وہ پاکستان ہے جو اب صرف جغرافیائی اہمیت کا حامل ملک نہیں رہا، بلکہ عالمی تنازعات میں ایک "فیصلہ کن ثالث" کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی معیشت کے لیے وہی اہمیت رکھتی ہے جو انسانی جسم میں شہ رگ کی۔ دنیا کی توانائی کا ایک بڑا حصہ اسی تنگ سمندری راستے سے گزرتا ہے۔ یہاں پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی نے جہاں عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا تھا، وہاں پاکستان کی "متوازن سفارت کاری" نے معجزہ کر دکھایا۔ پاکستان نے ثابت کیا کہ وہ تصادم کے بجائے مکالمے اور طاقت کے بجائے حکمت کا قائل ہے۔
پاکستان کی اس سفارتی پیش رفت کے اثرات محض بیانات تک محدود نہیں ہیں، بلکہ ان کے ٹھوس معاشی ثمرات مرتب ہو رہے ہیں۔ توانائی کی بلا تعطل فراہمی سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں توازن آ رہا ہے۔ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانی افرادی قوت اور ترسیلاتِ زر کے لیے یہ استحکام ایک حفاظتی ڈھال ثابت ہوگا۔ عالمی قوتوں کا پاکستان پر بڑھتا ہوا بھروسہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی اب درست سمت میں گامزن ہے۔
افق پر ایک ایسے "جامع امن معاہدے" کے آثار نمایاں ہیں جو نہ صرف آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر محفوظ بنائے گا بلکہ پورے خطے میں ترقی کے نئے دروازے کھولے گا۔ یہ معاہدہ اس فلسفے کی عملی تفسیر ہوگا کہ امن کوئی دور دراز کی منزل نہیں، بلکہ وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم خوشحالی تک پہنچ سکتے ہیں۔ جیسا کہ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نے کہا تھا
"امن محض ایک دور کا مقصد نہیں جسے ہم تلاش کرتے ہیں، بلکہ ایک ذریعہ ہے جس کے ذریعے ہم اس مقصد تک پہنچتے ہیں۔
آج کا پاکستان اپنی سفارتی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکا ہے۔ آبنائے ہرمز کے بحران کا حل نکال کر ہم نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ ہم امن کے داعی اور مشترکہ ترقی کے شراکت دار ہیں۔ یہ کامیابی محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک عہدِ نو کا آغاز ہے۔ایک ایسا عہد جہاں پاکستان عالمی امن کے ضامن کے طور پر ابھرا ہے۔
تحریر: چوہدری عامر بشیر انجم

نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے