واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران سے متعلق مجوزہ مفاہمتی یادداشت ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کر سکی۔
فرانس میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر مجوزہ معاہدہ قابل قبول نہ ہوا تو امریکہ دوبارہ فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھول دی جائے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ایران میں کسی قسم کی سرمایہ کاری نہیں کرے گا اور ایران کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈز سے متعلق رپورٹس درست نہیں ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق موجودہ مفاہمتی یادداشت میں فوری طور پر پابندیوں میں نرمی شامل نہیں کی گئی، اور اس معاملے پر آئندہ بات چیت کی جائے گی۔
اس موقع پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر صدر ٹرمپ کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ فریقین جلد کسی حتمی معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔