Get Alerts

وزیراعظم شہباز شریف، ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کا ٹیلیفونک رابطہ، خطے میں امن کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق

وزیراعظم شہباز شریف، ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کا ٹیلیفونک رابطہ، خطے میں امن کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق

اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان اور ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

گفتگو کے دوران وزیراعظم نے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی صحت اور خیریت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور جنوبی ایشیا میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایران کی مخلصانہ اور برادرانہ سفارتی کوششوں پر صدر پیزشکیان کا شکریہ ادا کیا۔

وزیراعظم نے ایرانی صدر کے گزشتہ ماہ کیے گئے ٹیلیفونک رابطے اور کشیدہ حالات کے دوران وزیر خارجہ عباس عراقچی کو بطور خصوصی ایلچی خطے میں بھیجنے پر بھی ان کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

وزیراعظم نے ہندوستان کی جانب سے پاکستان کے خلاف بلااشتعال جارحیت کی شدید مذمت کی، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت بے گناہ شہری شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے دشمن کو بھرپور اور ذمہ دارانہ جواب دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن کا خواہاں رہا ہے، اور اسی جذبے کے تحت بھارت کے ساتھ جنگ بندی مفاہمت پر اتفاق کیا گیا، جسے برقرار رکھنے کے لیے پاکستان پرعزم ہے۔ انہوں نے پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے ہر قیمت پر دفاع کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم نے بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ خلاف ورزی کی کوششوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ پاکستان کے لیے ایک "سرخ لکیر" ہے، کیونکہ یہ دریا کروڑوں پاکستانیوں کے لیے زندگی کا ذریعہ ہیں۔

وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر کا تنازعہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی اصل جڑ ہے، اور اس کا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے تاکہ خطے میں دیرپا امن ممکن ہو۔

ایرانی صدر نے حالیہ کشیدگی کے دوران قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور پاکستان کی امن کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے جنگ بندی مفاہمت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایران خطے میں امن اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

دونوں رہنماؤں نے پاک ایران دوطرفہ تعلقات پر بھی تبادلہ خیال کیا اور تجارت، علاقائی روابط، سلامتی، اور عوامی سطح پر روابط سمیت تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

ایرانی صدر نے وزیراعظم کو سرکاری دورہ تہران کی دعوت دی، جسے وزیراعظم نے خوش دلی سے قبول کر لیا۔

ٹیگز: