تحریر: طارق وسیم
کھیلوں کی دنیا کا سب سےبڑا ایونٹ اولمپکس کو قرار دیا جاتا ہےتو دنیا کا مقبول ترین کھیل فٹ بال ہے اور جب بات ہو ورلڈ کپ کی تو اس سے بڑا مقابلہ نہیں ہو سکتا ،11 جون سے امریکہ کینیڈا اور میکسیکو میں فٹ بال کے عالمی چیمپین کے لیے جنگ چھڑنے جا رہی ہے جو 19 جولائی تک جاری رہے گی، پہلی مرتبہ فٹ بال ورلڈ کپ میں 48 ٹیمیں شریک ہوں گی، ارجنٹائن اپنے ٹائٹل کا دفاع کرے گا ۔
ابتدائی طور پر چار چار ٹیموں پر مشتمل 12 گروپس بنائے گئے ہیں جن میں سے ہر گروپ سے 2 ٹیمیں اگلی سٹیج کے لیے کوالیفائی کریں گی ،اس کے بعد راؤنڈ آف 16 ہوگا ،پھر کوارٹر فائنل ،سیمی فائنل اور آخر میں فائنل میچ کھیلا جائے گا ،دنیا بھر میں فٹ بال کا جنون سر چڑھ کر بولنے لگا ہے، امریکہ کینیڈا اور میکسیکو میں تشہیری مہم جاری ہے، ٹیمیں فائنل ہو رہی ہیں ،معروف کولمبیئن گلوکارہ شکیرا نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کا آفیشل گانا گایا ہے ، ٹیموں کی بات کی جائے تو فرانس کی ٹیم عالمی رینکنگ میں پہلے نمبر پر ہے ورلڈ کپ میں ان کی قیادت کیلین امباپےکریں گے ، عثمان ڈمبیلے اور دیگر ورلڈ کلاس کھلاڑیوں کی موجودگی میں فرانس ایک ایسی ٹیم ہے،، جو گزشتہ دس سال سے بہت اچھی فٹ بال کھیل رہے ہیں ۔
فرانس نے 2018 کا ورلڈ کپ با ٓسانی جیت لیا تھا ،، دنیا کی کوئی ٹیم ان کے نزدیک بھی نہیں پھٹک سکی تھی ،2022 میں بھی فرانسیسی ٹیم فائنل جیتنے کے لیے فیورٹ تھی، ان کے کھیل کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ اکیلے کیلین امباپے نے پوری ارجنٹائن کی ٹیم کو تگنی کا ناچ نچا دیا تھا اور تقریبا ورلڈ کپ جیت چلے تھے، لیکن اس رات قسمت کی دیوی لیونل میسی کی ٹیم پر مہربان تھی سو وہ چیمپئن بن گئے،امباپے گزشتہ 7 سال سے دنیا کے بہترین فٹ بالر ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ ان کی قیادت میں فرانس مسلسل تیسری مرتبہ ورلڈ کپ کا فائنل نہ صرف کھیلے گا بلکہ جیت بھی لے گا ،ٹورنامنٹ کی دوسری خطرناک ٹیم سپین ہے جو نوجوانوں کی پسندیدہ بھی ہے،، 2010 میں ورلڈ کپ جیت چکے ہیں ،رواں برس بھی ان سے اچھی کارکردگی کی توقع ہے ۔
بیلجیئم ایک ایسی ٹیم ہے جو گزشتہ 15 سالوں سے دنیا کی بہترین ٹیموں میں پہلے دوسرے یا تیسرے نمبر رہی ہے، لیکن بد قسمتی سے ورلڈ کپ کبھی نہیں جیت سکی ،یہ فٹ بال بھی بہت خوبصورت کھیلتے ہیں ،کہا جاتا ہے کہ جرمنی اور بلجیئم کے کھلاڑی فٹ بال کے ساتھ شاعری کرتے ہیں ،لوکاکو اینڈ کمپنی کی کوشش ہوگی کہ وہ آ خر کار یہ ٹورنامنٹ جیت کر دنیا کو بتا سکیں کہ وہ واقعی چیمیئن ہیں ،اور وہ ایسا کر بھی سکتے ہیں ،اس کے بعدآتی ہے دنیا میں سب سے اچھی فٹ بال ٹیم کی باری،، جی ہاں میں بات کر رہا ہوں جرمنی کی جو گزشتہ 2 ورلڈ کپ مقابلوں میں انتہائی نکما کھیلے ہیں ،،2014 میں وہ ٹورنامنٹ جیت گئے تھے ،جرمنی اس وقت عالمی رینکنگ میں دسویں نمبر پر ہے لیکن اس ٹیم کے لیے رینکنگ کوئی اہمیت نہیں رکھتی یہ جب چاہیں جیت سکتے ہیں ،بد قسمتی سے فٹ بال کی 100 سالہ تاریخ میں جرمنی اتنا برا کبھی نہیں کھیلا جتنا گزشتہ 2 عالمی مقابلوں میں کھیلا ،لیکن اس مرتبہ جمال موسیالا اور کمچ اینڈ کمپنی ٹرافی اٹھانے کے لیے پر اعتماد ہیں ،ایک اور ٹیم جو آ ج کل بہت اچھا کھیل رہی ہے وہ ہے انگلینڈ ،عالمی رینکنگ میں چوتھے نمبر پر ہے لیکن انگلینڈ کا ٹریک ریکارڈ ہے کہ یہ کوارٹر یا سیمی فائنل کے لیول کی ہی ٹیم ہیں ،ہو سکتا اس مرتبہ اس سےآگے نکل جائیں ،ایک اور ٹیم جو ہر دور میں جرمنی کے بعد دنیا کی بہترین ٹیم سمجھی جاتی ہے اور شاندار کھیلتی ہے وہ ہے نیدر لینڈز ، یہ تین ورلڈ کپ فائنل اور ان گنت سیمی فائنل کھیل چکے ہیں لیکن ٹرافی کبھی نہیں جیت پائے ۔
اس مرتبہ یہ بھی چاہیں گے کہ ان پر لگا چوکرز کا ٹیگ ہٹ جائے ،برازیل ہمیشہ ہی فیورٹ ہوتی ہے سو اس مرتبہ بھی ہے ،نیمار کی ٹیم عالمی رینکنگ میں بھی چھٹے نمبر پر ہے ،توقع کی جا رہی ہے کہ وہ بھی اچھا کھیلیں گے ،کرسٹیانو رونالڈو کی ٹیم پرتگال اس وقت عالمی رینکنگ میں پانچویں نمبر پر ہے اور ان کی شدت سے خواہش ہے کہ اپنے کیریئر کے اختتام پر وہ پرتگال کو عالمی چیمپئن بنوا سکیں لیکن ایسا ہونا مشکل لگتا ہے ،جنوبی امریکہ کی ٹیموں کی بات کریں تو کولمبیا ،چلی ،یوروگوائے پیرا گوائے وغیرہ تیز فٹ بال کھیلتے ہیں، اپ سیٹ کر کے کسی بھی بڑی ٹیم کی امیدوں پر پانی پھیر سکتے ، ہیں۔
میکسیکو میزبان ملک ہے ،توقع کی جا رہی ہے کہ وہ کم ازکم سیمی فائنل تو ضرور کھیلیں گے ،ابھی کیونکہ ٹورنامنٹ شروع ہونا ہے اس لیے فی الحال اتنا ہی کافی ہے ،19 جولائی سے بہت پہلے ہم کوشش کریں گے کہ آپ کو فائنل فور کے فائنل نام بھی بتا دیں ،فٹ بال دنیا میں یک جہتی کا سب سے بڑا مظہر ہے ،اس لیے ہم سب دعا گو ہیں کہ یہ ورلڈ کپ شاندار اور جاندار انداز میں کھیلا جائے ،یورپ کے شارٹ پاسز ،جنوبی امریکہ کی لانگ ہٹس اور گزشتہ ورلڈ کپ میں مس کیے جانے والے ہیڈرز دیکھنے کو ملیں ۔نئے سٹارز ابھر کر سامنےآئیں اور اس کھیل کا جنون یونہی بڑھتا رہے۔
نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے
طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔