لاہور: پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب سروے اس وقت 27 اضلاع میں جاری ہے، جس میں پی ڈی ایم اے کی جانب سے 11,000 افراد اور 2200 ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں سروے کر رہی ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ اس سروے میں 60 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور 27 اضلاع میں 2855 مواضعات کو آفت زدہ قرار دیا جا چکا ہے۔
عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ پی ڈی ایم اے کی ٹیمیں سیلابی پانی سے گزر کر متاثرہ گھروں تک پہنچ رہی ہیں اور ان کی پوری کوشش ہے کہ آخر کار ہر متاثرہ فرد تک امداد پہنچائی جائے۔ ان کے مطابق، 27 اکتوبر تک 4754 دیہات کا سروے مکمل کر لیا جائے گا۔
اب تک، سروے کے دوران تقریباً 3 لاکھ 73 ہزار متاثرہ گھروں کا جائزہ لیا جا چکا ہے، جن میں سے ایک لاکھ سے زائد ہاؤس ہولڈ یونٹس کا نقصان رپورٹ ہوا ہے۔ ان میں 31 فیصد پکے اور 69 فیصد کچے گھر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، سیلاب کی تباہی سے 10 لاکھ 49 ہزار 635 ایکٹر فصلیں خراب ہو چکی ہیں، جن میں چاول کی فصل 4 لاکھ 64 ہزار 584 ایکٹر پر متاثر ہوئی ہے۔
سیلاب کے اثرات میں کپاس کی فصل بھی تقریباً 66 ہزار 951 ایکٹر پر خراب ہوئی ہے، جبکہ 7 ہزار 656 جانوروں کا نقصان رپورٹ ہوا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بڑے جانوروں کے نقصان پر 5 لاکھ روپے اور چھوٹے جانوروں کے نقصان پر 50 ہزار روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے سروے کا عمل مکمل طور پر ڈیجیٹل اور شفاف طریقے سے کیا جا رہا ہے، جس کی تصدیق نادرا کے ذریعے کی گئی ہے۔ نادرا نے 3 لاکھ 73 ہزار متاثرین میں سے ڈیڑھ لاکھ کے ڈیٹا کی تصدیق کر لی ہے، اور ان میں سے 75 ہزار افراد کے بینک آف پنجاب میں اکاؤنٹس بھی کھولے جا چکے ہیں۔
عرفان علی کاٹھیا نے مزید بتایا کہ اگلے ہفتے سے امدادی رقم کی تقسیم شروع ہو جائے گی، جس کے تحت متاثرین کو بینک آف پنجاب کی کیمپ سائڈ سے 50 ہزار روپے نقد امداد فراہم کی جائے گی، جبکہ باقی رقم ان کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جائے گی۔ متاثرین کو امداد وصول کرنے کے لیے بینک آف پنجاب کی جانب سے مخصوص کیمپ سائڈز اور اے ٹی ایم سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، اور ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی دی جائے گی۔
انہوں نے اس بات کا بھی یقین دلایا کہ پی ڈی ایم اے، نادرا اور دیگر پارٹنرز 24 گھنٹے کام کر رہے ہیں تاکہ سیلاب متاثرین تک ان کی امداد پہنچائی جا سکے۔ اگلے ہفتے پیر سے امداد کی تقسیم کا عمل شروع ہو جائے گا۔