واشنگٹن : امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بائیڈن انتظامیہ پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے قاتلوں کو امریکا میں داخلے کی اجازت دی، اور اب وہ غیرقانونی تارکین وطن کو ملک میں داخل ہونے نہیں دیں گے۔ اپنے خطاب میں ٹرمپ نے بائیڈن کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کی حکومت کے دوران امریکا کی معیشت اور قومی سلامتی میں نمایاں بہتری آئی۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں کرپٹ نظام کو ختم کرنے کے لیے ایک بھاری مینڈیٹ ملا تھا، اور ایک سال میں جو کامیابیاں انہوں نے حاصل کیں، وہ کوئی اور حکومت نہیں کر سکی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے 10 ماہ کے اندر 8 جنگوں کو روکا، ایران کے جوہری خطرے کو ناکام بنایا اور غزہ کی جنگ کو ختم کر کے پہلی بار تین ہزار سال میں امن قائم کیا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا کو ایک قانون ساز نہیں، بلکہ ایک نئے صدر کی ضرورت تھی۔ ان کے دور میں امریکا بدترین حالات سے بہترین حالت میں تبدیل ہو گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے دور میں اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی اور امریکیوں کی تنخواہوں میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ، امریکی معیشت میں تیزی آئی اور برسر روزگار افراد کی تعداد ماضی کی نسبت زیادہ ہوئی۔
صدر نے کہا کہ ایک سال پہلے امریکا "مردہ" تھا اور ناکامی کے دہانے پر تھا، مگر ان کی قیادت میں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ممکن ہوئی اور ٹیکسوں میں کمی کے فوائد آئندہ سالوں میں نظر آئیں گے۔ انہوں نے امریکی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے ٹیرف کی پالیسی کی بھی حمایت کی۔
ٹرمپ نے بائیڈن انتظامیہ کی گرین انرجی اسکیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بائیڈن دور میں غیرقانونی تارکین وطن نے امریکیوں کی نوکریاں چھین لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے دور میں ساری نئی نوکریاں امریکا میں پیدا ہونے والوں کو ملیں، اور وہ امریکا کو دوبارہ عظیم بنا رہے ہیں۔ ان کی حکومت نے ملک کی سرحدوں کو محفوظ بنایا۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ بائیڈن کی پالیسیاں دوبارہ نافذ نہیں ہونے دیں گے، اور انھوں نے امریکی فوجیوں کے لیے کرسمس پر فی کس 1776 ڈالر دینے کا اعلان کیا۔