تہران :ایران نے اپنے آپریشن 'وعدہ صادق سوم' کی 11ویں لہر کے تحت اسرائیل پر مزید میزائل داغ دیے، جس سے اسرائیل میں سائرن بج اٹھے اور ملک بھر میں فضائی حملے کی وارننگز جاری ہو گئیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے فضائی حدود پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اسرائیلی دفاعی نظام ان کے میزائل حملوں کے آگے بے بس ہے۔
ایرانی فوج نے ہائپرسونک میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے اسرائیل کے مختلف ہدفوں کو نشانہ بنایا، جبکہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے صیہونی ریاست کے خلاف طاقتور کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ ایران کی طرف سے اس سخت موقف کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کو مذاکرات کی دعوت دی اور خبردار کیا کہ جنگ دونوں کے لیے نقصان دہ ہوگی۔
دوسری جانب، اسرائیل نے ایران کے مرکزی بینک پر سائبر حملہ کیا، جس کی وجہ سے ایران میں اے ٹی ایم خدمات متاثر ہوئیں۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے تہران میں فوجی اور حکومتی اہداف پر مزید حملوں کی دھمکی دی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایران نے امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی تیاریاں بھی مکمل کر لی ہیں، جس کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
مجموعی طور پر، ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ساتھ ساتھ عالمی برادری جنگ کی شدت کو کم کرنے کے لیے مذاکرات کی ضرورت پر زور دے رہی ہے، تاہم حالات انتہائی نازک ہیں اور دونوں طرف سے جارحانہ رویہ دیکھا جا رہا ہے۔