اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی "اسلام آباد مفاہمتی یادداشت" کے 14 نکاتی متن کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جسے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
دستاویز کے مطابق دونوں ممالک اور ان کے اتحادی، بشمول لبنان، تمام محاذوں پر جاری فوجی کارروائیاں فوری طور پر روک دیں گے اور تنازعات کے حل کے لیے سفارتی راستہ اپنایا جائے گا۔
مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکا فوری طور پر ایران کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا عمل شروع کرے گا، جبکہ ایران خلیج فارس سے خلیج عمان تک تجارتی جہازوں کی محفوظ، بلا رکاوٹ اور بلا معاوضہ آمد و رفت یقینی بنائے گا۔
دستاویز میں بحری راستوں کے تحفظ، تجارتی سرگرمیوں کے تسلسل اور علاقائی استحکام کے لیے مشترکہ تعاون پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ اگر مؤثر انداز میں نافذ ہوا تو نہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں واضح کمی آئے گی بلکہ خطے میں امن اور معاشی سرگرمیوں کے لیے بھی نئے مواقع پیدا ہوں گے۔