پشاور ہائیکورٹ: ایف آئی اے کو شاندانہ گلزار کے خلاف کارروائی سے روک دیا گیا

پشاور ہائیکورٹ: ایف آئی اے کو شاندانہ گلزار کے خلاف کارروائی سے روک دیا گیا

پشاور: پشاور ہائیکورٹ نےوفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کو پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار کے خلاف کارروائی سے روک دیا۔عدالت نے شاندانہ گلزار کو بھیجے گئے نوٹس پر ایف آئی اے سے جواب طلب کرلیا۔ 

شاندانہ گلزار کی ایف آئی اے نوٹس کے خلاف درخواست پر جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس وقار احمد نے سماعت کی۔

عدالت نے حکم دیتے ہوئے کہا کہ فریقین آئندہ سماعت تک اپنا جواب جمع کرائیں۔ 

ایڈیشنل اٹارنی جنرل ثناء اللّٰہ نے کہا کہ درخواست کے دائرہ اختیار پر ہمیں اعتراض ہے، یہ نوٹس لاہور سے ان کو جاری ہوا۔

جس پر جسٹس وقار احمد نے کہا کہ ایف آئی اے لاہور صوبے کے رہائشی کے خلاف کیسے انکوائری کرتی ہے، ایف آئی اے کا آفس صرف لاہور میں ہے کسی اور جگہ پر نہیں۔

جسٹس سید ارشد علی نے سوال کیا کہ یہ تو رکن قومی اسمبلی ہیں، ہمیں بتا دیں ان کے خلاف کیا الزامات ہیں؟ اس نے کیا خلاف ورزی کی ہے؟ 

شاندانہ گلزار کے وکیل نے کہا کہ  ایف آئی اے نے درخواست گزار کو طلبی کا نوٹس جاری کیا ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ انہوں نے قومی اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا ہے۔ جس پر جسٹس سید ارشد علی نے استفسار  کیا کہ ان کے خلاف الزامات کیا ہیں؟ وہ ہمیں بتا دیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم ان کو تحریری طور پر تفصیلات فراہم کریں گے۔

بعد ازاں عدالت نے 25مارچ تک سماعت ملتوی کرتے ہوئے ایف آئی اے ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔

خیال رہے کہ شاندانی گلزار کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایف آئی اے لاہور کے نوٹس میں کوئی وضاحت نہیں، تفصیلات فراہم کی جائیں۔

مصنف کے بارے میں