تہران/تل ابیب : ایران نے اپنے سینئر ترین رہنما علی لاریجانی کی شہادت کا ہولناک بدلہ لینے کے لیے اسرائیل کے خلاف باقاعدہ جنگ کا اعلان کرتے ہوئے "آپریشن وعدہ صادق 4" کا آغاز کر دیا ہے۔ حملوں کی 61 ویں لہر میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب سمیت کئی شہروں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کی اطلاعات ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق، اس آپریشن میں ایران کے جدید ترین بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کیا گیا، جن میں خرمشہر 4 اور خیبر شکن، قدر اور عماد میزائل شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تل ابیب اور گردونواح میں 100 سے زائد فوجی اور سکیورٹی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ حملوں کے نتیجے میں متعدد فوجی گاڑیاں تباہ ہو گئیں، کئی حساس عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا اور شہر کے مختلف حصوں میں ہولناک آگ بھڑک اٹھی۔
اسرائیلی اور عالمی ذرائع کے مطابق نقصانات کے اعداد و شمار درج ذیل ہیں۔ ایرانی بمباری کے نتیجے میں مجموعی طور پر 15 اسرائیلی ہلاک جبکہ 3,369 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
امریکی سینٹ کام (CENTCOM) نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ میں اب تک 13 امریکی فوجی ہلاک اور 200 زخمی ہو چکے ہیں۔
عراقی مزاحمتی تنظیم کی جانب سے بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کیے گئے ڈرون حملوں میں مزید 10 امریکی فوجیوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں، جس کی ویڈیو بھی جاری کر دی گئی ہے۔