نیویارک: اقوام متحدہ نے افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال، خواتین اور لڑکیوں پر عائد سخت پابندیوں، کمزور حکمرانی اور دہشتگرد گروہوں کی موجودگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورتحال پر حالیہ بریفنگ کے دوران ڈپٹی سپیشل نمائندہ برائے افغانستان جارجیٹ گگنن نے کہا کہ خواتین اور لڑکیوں پر شدید پابندیاں، شمولیت سے محروم حکمرانی، انسانی حقوق کا بحران اور دہشتگرد گروہوں کی مسلسل موجودگی بدستور بڑے خدشات ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے تعلیم، روزگار، عوامی زندگی اور بنیادی خدمات تک رسائی پر عائد پابندیوں نے انسانی حقوق کی صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔
اقوام متحدہ نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی ملک، خطے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے مسلسل تشویش کا باعث ہے۔
عالمی ادارے کی رپورٹس کے مطابق خواتین اور لڑکیوں کے حقوق پر پابندیاں صحت، تعلیم، روزگار، نقل و حرکت اور عوامی زندگی سمیت مختلف شعبوں کو متاثر کر رہی ہیں۔