Get Alerts

پاک، امریکہ مذاکرات یا نئی جنگ؟ ایران نے امریکی ناکہ بندی کو 'جاہلانہ' قرار دے کر مسترد کر دیا

پاک، امریکہ مذاکرات یا نئی جنگ؟ ایران نے امریکی ناکہ بندی کو 'جاہلانہ' قرار دے کر مسترد کر دیا

تہران : تہران اور واشنگٹن کے درمیان لفظی جنگ میں اس وقت تیزی آگئی جب ایران نے امریکی صدر کے 'ناکہ بندی' کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے سفارتی حماقت قرار دیا۔ ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ باقر قالیباف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متضاد بیانات نے خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔
ایرانی وفد کے سربراہ باقر قالیباف نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے ناکہ بندی کا اعلان ایک "بھونڈا اور جاہلانہ فیصلہ" ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ امریکہ دھمکیوں اور ناکہ بندی کے ذریعے تہران کو اپنی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔ قالیباف نے اعتراف کیا کہ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، تاہم اب بھی فریقین کے درمیان "بہت فاصلہ" باقی ہے، جو کسی بھی وقت ڈیڈ لاک کا سبب بن سکتا ہے۔
 اس سے قبل صدر ٹرمپ نے سچویشن روم میں اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز کی بندش کی دھمکی دے کر امریکہ کو بلیک میل کرنا چاہتا ہے، جس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری یہ کشیدگی اب ایک ایسے مقام پر ہے جہاں ایک طرف مذاکرات کی میز پر "اچھی گفتگو" کے دعوے کیے جا رہے ہیں، تو دوسری طرف سمندروں میں ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
 ماہرین کے مطابق باقر قالیباف کا بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران کسی بھی ایسے معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا جو اس کی معاشی خودمختاری پر سمجھوتہ کرے۔ جبکہ صدر ٹرمپ کا "مذاکرات" اور "ناکہ بندی" کا بیک وقت ذکر کرنا ان کی 'گریٹ ڈیل' حاصل کرنے کی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔

ٹیگز: