اسلام آباد: اسلام آباد کی مقامی عدالتوں نے چیئرمین پی ٹی آئی کی تھانہ مارگلہ اور تھانہ کھنہ میں درج مقدمات میں ضمانت کنفرم کردی ہے۔
ایڈیشنل سیشنز جج سکندر خان نے چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف تھانہ مارگلہ میں درج مقدمہ میں ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔ شریک ملزمان اسد عمر، راجہ خرم نواز سمیت دیگر بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کیس میں شریک دیگر ملزمان کی حد تک وکلا کی بحث ہو چکی ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شیر افضل مروت نے موقف اپنایا کہ پراسیکیوشن کے پاس ثبوت نہیں ہیں تو کیا دلائل دیں گے؟ ایسا دور آگیا ہے کہ پراسیکیوٹر خود ایف آئی آر میں درج دفعات پر ہنس رہے ہیں۔
اس موقع پر استغاثہ نے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کر دی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کے پاس کیا ثبوت ہے جن پر چیئرمین پی ٹی آئی کو نامزد کیا گیا؟ پراسیکیوٹر نے موقف اپنایا کہ گرفتار مظاہرین کے بیان پر نامزد کیا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا دفعہ 144 کا نفاز تھا؟ کیا ایف نائن میں مظاہرے میں کوئی تقریر کی گئی؟ پراسیکیوٹر نے اعتراف کیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی، اسد عمر اور راجہ خرم نواز کی طرف سے کوئی تقریر نہیں کی گئی۔
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا مظاہرے کے بعد کوئی توڑ پھوڑ کی گئی تھی؟ پراسیکیوٹر نے جواب دیا کوئی توڑ پھوڑ نہیں کی گئی۔
عدالت نے تھانہ مارگلہ میں چیئرمین پی ٹی آئی سمیت دیگر ملزمان کی ضمانت کنفرم کر دی۔ دوسری جانب ایڈیشنل سیشنز جج سید محمد ہارون کی عدالت نے بھی چیئرمیں پی ٹی آئی کے خلاف تھانہ کھنہ میں درج مقدمہ میں ضمانت کنفرم کر دی۔