Get Alerts

پاکستانی میزائل ، علاقائی پالیسیاں امریکا کیلئے خطرہ ہیں: امریکی انٹیلی جنس

پاکستانی میزائل ، علاقائی پالیسیاں امریکا کیلئے خطرہ ہیں: امریکی انٹیلی جنس

واشنگٹن: امریکی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس تلسی گیبرڈ کی سالانہ خطرات کی جائزہ رپورٹ 2026 میں پاکستان کے میزائل پروگرام اور علاقائی پالیسیوں کو امریکی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں پاکستان کو روس، چین، شمالی کوریا اور ایران کے ساتھ امریکی حریفوں کی صف میں رکھا گیا ہے۔ پاکستان پر الزام ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار، بین البراعظمی میزائل، خودکش ڈرونز اور پراکسی جنگ کے ذریعے امریکا کے لیے خطرہ پیدا کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان مسلسل ایسی جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اسے جنوبی ایشیا سے باہر کے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت دیتی ہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو مستقبل میں ایسے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تیار ہو سکتے ہیں جو امریکی سرزمین کے لیے خطرناک ثابت ہوں۔

اسی رپورٹ میں ایٹمی حملوں اور خودکش ڈرونز کے خطرات کا بھی ذکر ہے اور کہا گیا ہے کہ چین، روس، شمالی کوریا، ایران اور پاکستان ایسے جدید یا روایتی میزائل نظام تیار کر رہے ہیں جو امریکہ کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

رپورٹ میں جنوبی ایشیا کو امریکہ کے لیے مستقل سکیورٹی چیلنج قرار دیتے ہوئے پاکستان-بھارت تعلقات میں کشیدگی کے سبب ایٹمی تصادم کا خطرہ برقرار رہنے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

علاوہ ازیں، پاکستان پر تنقید کی گئی ہے کہ وہ علاقائی تنازعات میں اپنے حریفوں کو کمزور کرنے، پراکسی فورسز یا فوجی اثاثوں کے ملا جلا استعمال میں ملوث ہے، جو مصر، اسرائیل، ترکی اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں خطرناک ہے۔

رپورٹ میں یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ امریکہ نے 2024 میں پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں شامل 16 کمپنیوں کو بلیک لسٹ کیا تھا۔ اس کا الزام تھا کہ یہ کمپنیاں ہتھیاروں کے پروگرام میں مدد کر رہی تھیں۔ پاکستان نے اس پابندی کو جانبدارانہ اور سیاسی مقاصد پر مبنی قرار دیا تھا۔

ٹیگز: