اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے ملک بھر میں بازگشت پیدا کرنے والے ہائی پروفائل 'ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس' کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، جو آج ہی سنایا جائے گا۔ عدالت میں پراسیکیوشن کی جانب سے حتمی اور مدلل جرح مکمل ہونے کے بعد فاضل جج نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا۔ دورانِ سماعت سرکاری وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ سفاک ملزم عمر حیات کو عبرت ناک سزا کے طور پر سزائے موت دی جائے۔
سماعت کے دوران استغاثہ کے گواہان اور تمام ڈیجیٹل و طبی شواہد عدالت کے سامنے پیش کیے گئے، جس پر فریقین کے وکلاء نے طویل جرح کی۔
سرکاری وکیل نے اپنے حتمی دلائل میں اعلیٰ عدلیہ کی نظیریں پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا "ملزم عمر حیات کے خلاف ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے قتل کے ناقابلِ تردید اور ٹھوس سائنسی شواہد موجود ہیں۔ ایسے سنگین اور معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانے والے جرائم کے سدِباب کے لیے ملزم کسی رعایت کا حقدار نہیں، لہٰذا اسے قانون کے مطابق سزائے موت سنائی جائے۔
عدالتی ذرائع کے مطابق، جج نے دونوں اطراف کے دلائل اور اعلیٰ عدلیہ کے مختلف تاریخی فیصلوں کے حوالوں کو ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے سماعت مکمل کی۔ سیشن کورٹ کے جج آج دوپہر 3 بجے اس اہم ترین کیس کا تفصیلی فیصلہ سنائیں گے، جس کے پیشِ نظر کچہری اور عدالت کے باہر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔