لاہور: صوبائی دارالحکومت لاہور کی فضائی آلودگی آج دنیا میں سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی، جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید سموگ سے بچنے کے لیے غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ سموگ مانیٹرنگ سینٹر کے مطابق مشرقی ہواؤں کے باعث شہر میں ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 292 تک پہنچ گیا ہے، جو صحت کے لیے انتہائی خطرناک سطح پر ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق، صبح کے وقت کم درجہ حرارت کے باعث آلودہ ذرات فضا میں زیادہ دیر تک معلق رہیں گے، جس سے فضائی آلودگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ زیادہ متاثرہ علاقوں میں اینٹی سموگ گنز کا استعمال بھی شروع کر دیا گیا ہے تاکہ آلودگی کو کم کیا جا سکے۔
صوبائی حکام نے شہریوں کو خاص طور پر بچوں، بوڑھوں اور سانس کی بیماریوں کے مریضوں کو باہر نکلنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، لاہور میں ابھی بارش کی کوئی توقع نہیں، جس سے آلودگی کے مسائل میں مزید شدت آنے کا خدشہ ہے۔
مقامی ماہرین کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی کا پھیلاؤ نہ صرف شہریوں کی صحت کے لیے خطرہ بن چکا ہے بلکہ اس سے شہر کی مجموعی زندگی کے معیار پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فضائی آلودگی کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ شہریوں کو اس مسئلے سے بچایا جا سکے اور مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچا جا سکے۔