ڈھاکہ :بنگلہ دیشی نوجوان رہنما عثمان ہادی کے قتل کے بعد ایک اور سیاسی رہنما حسنات عبداللہ کو دھمکیوں کا سامنا ہے، جس پر بھارت کی مبینہ ریاستی دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج کے ایک سابق میجر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر حسنات عبداللہ کو براہِ راست دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ “اگلی باری تمہاری ہے”، جبکہ ایک سابق بھارتی کرنل نے بھی ان کی جان کو خطرے کی دھمکی دی۔ ان واقعات کے بعد بنگلہ دیش میں سیاسی حلقوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت اپنی خفیہ ایجنسی “را” کے ذریعے بیرونِ ملک مخالف آوازوں کو دبانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے اثرات پاکستان، کینیڈا، امریکا، آسٹریلیا اور بنگلہ دیش سمیت مختلف ممالک میں دیکھے جا چکے ہیں۔ پاکستان متعدد مواقع پر شواہد کے ساتھ بھارت کی مبینہ ریاستی دہشت گردی کو عالمی فورمز پر اجاگر کر چکا ہے۔
ماضی میں کینیڈا اور امریکا میں سکھ رہنماؤں پر حملوں، آسٹریلیا میں بھارتی انٹیلی جنس سے منسلک افراد کی بے دخلی اور سری لنکا میں تامل شدت پسندوں کی حمایت جیسے واقعات بھارت پر سنگین سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔ سابق کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو بھی بھارتی سفارتی اہلکاروں کے شرپسند عناصر سے روابط بے نقاب کر چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بنگلہ دیش میں نوجوان سیاسی رہنما کے قتل اور بعد ازاں دھمکیوں کے واقعات بھارت کی مبینہ ڈیپ اسٹیٹ سرگرمیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اقوامِ عالم کو خطے اور عالمی امن کو لاحق خطرات کے پیش نظر بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔