کابل: افغان طالبان حکومت عوامی فلاح و بہبود سے لاتعلق نظر آ رہی ہے، جبکہ بجٹ کا ایک بڑا حصہ غیر ترقیاتی اخراجات پر خرچ کیا جا رہا ہے۔
افغان انٹرنیشنل میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، طالبان نے عوامی فلاح اور ترقیاتی منصوبوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ملک کو شدید معاشی اور سماجی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان حکومت نے بجٹ کا 88 فیصد حصہ غیر ترقیاتی سرگرمیوں پر مختص کیا، جس سے تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات پر سرمایہ کاری انتہائی محدود ہو گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس غیر متوازن بجٹ پالیسی کے اثرات افغان عوام پر براہِ راست پڑ رہے ہیں اور ملک کی اقتصادی اور سماجی ترقی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔