Get Alerts

توانائی، معیشت اور سیاست: بھارت اور یو اے ای کا نیا باب

توانائی، معیشت اور سیاست: بھارت اور یو اے ای کا نیا باب

تحریر: طارق وسیم
متحدہ عرب امارات کے امیر خلیفہ محمد بن زید النہیان چار گھنٹے کے دورے پر بھارت پہنچے ،مختلف ایم او یوز پر دستخط کیے اور چلتے بنے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھائیں گے،بڑے نیوکلیئر ری ایکٹرز لگائیں گے تاکہ دونوں ممالک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ معاشی میدان میں بھی بہتری کی جا سکے۔ بھارت میں بے جے پی کے زومبیز  اس معاہدے کو  بھارتی تاریخ کا سب سے بڑا بریک تھرو قرار دیتے نہیں تھک رہے۔
 پاکستان میں بھی ایک طبقہ فکر کی طرف سے منفی آرا سامنے آرہی ہیں۔یہ لوگ  پاکستان کے بدترین دشمن ہیں   کیونکہ  یہ طبقہ فکر پاکستان کے خلاف پرو پیگنڈہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔  مئی 2025 میں پاکستان میدان جنگ میں جوتیاں چھوڑ کر بھاگنے  والے بھارت کا پیچھا اس  ملک کے اندر جا کے کر رہا تھا اور یہ منفی ذہنیت کے لوگ  اس انتظار میں تھے کہ کب بھارتی فوج پاکستان  کے خلاف  کامیابی حاصل کرے ۔ گودی میڈیا اور بھاجپا کے 99 اعشاریہ 9 فیصد خبریں جھوٹ نہیں  بلکہ جھوٹ کا انبار ہوتی ہیں اور دنیا بھر میں ان کو سیریس لینے والا کوئی نہیں ہاں البتہ مذاق اڑانے والے بہت ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ    امارات کے حوالے سے ان کا پراپیگنڈا کسی سے ڈھکاچھپا ہوا نہیں ہے۔   یو اے ای  یمن میں سعودی مخالف حوثیوں کا دوست بھی ہے۔رپورٹ کے مطابق  متحدہ عرب امارات میں  اوورسیز شہریوں کی تعداد کے لحاظ سے بھارت کا پہلا نمبر ہے ۔ 
حالات کے درست ادراک کے لیے  تاریخ کےطالبعلم  کے طور پر  60 کی دہائی میں جانا پڑے گا ۔عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل نے تمام عرب ممالک بشمول مصر کو ایک ہفتے میں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا،اس جنگ میں شکست کے بعد عرب ممالک اور مصر نے یہ سبق سیکھا  کہ اسرائیل سے تعلقات بنا کر رکھنے ہی میں عافیت ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ شاہ خالد کے دور میں سعودی عرب اسرائیل کے حوالے سے نیوٹرل جبکہ ایران کے حوالے سے سخت موقف اپنائے رہا ۔شاہ عبداللہ اور شاہ سلمان   آئے تو بھی  صورتحال کم و بیش ایسی رہی لیکن پھر  محمد بن سلمان کا دور آیا اور سعودی عرب کی سفارتکاری اور خارجہ پالیسی میں کاٹ آنی شروع ہوئی۔اسلامی ممالک کی فوج قائم کی گئی جو در حقیقت سعودی عرب ہی کی فوج ہے ۔ یہ فوج زمینی اور فضائی قوت کے لحاظ سے دنیا کی ٹاپ 10 افواج میں شامل ہے اور  اگر اس میں پاکستان اور ترکی کو شامل کر لیا جائے تو یہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی قوت ہے ۔
سیاسی مبصرین  کے مطابق سعودی عرب نے سوڈان کے تمام سونے کے ذخائر خریدنے اور اپنے زیر انتظام لانے کا اعلان کیا ہے،یمن میں متحدہ عرب امارات کی مداخلت کو نا قابل قبول قرار دیتے ہوئے اسے جنگ کی وارننگ دی گئی ہے ۔چین جلد ہی تائیوان پر عملی قبضہ کرنے جا رہا ہے۔ روس یوکرین اور امریکہ گرین لینڈ پر قبضے کو تیار بیٹھے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ امیر امارات سعودی عرب یا ترکی کے بجائے بھارت گئے ۔اس کا جواب بھی آپ کو دے دیتے ہیں ۔ بھارت  اور افغانستان دو ایسے ممالک ہیں جنہیں پاکستان کے خلاف استعمال کر کے سعودی عرب پر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔ فیصلے اب میدان میں ہونے ہیں۔ بھارت اور امارات دونوں عالمی تنہائی کا شکار ہیں،یورپ بھارت کے مقابلے میں پاکستان کو ترجیح دینے لگا ہے۔ امریکہ چین اور روس پاکستان کو دنیا کی چوتھی بڑی اور پہلی خطرناک ترین فوجی قوت کے طور پر تسلیم کر چکے ہیں ۔ اس لیے نہ افغانستان کے خود کش بمبار کام آئیں گے نہ گودی میڈیا کا جھوٹ چلے گا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ   قطر،ایران،یو اے ای سمیت مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک کو  دانشمندی سے آگے بڑھنا ہے ورنہ جغرافیہ تبدیل ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔ افغانستان میں جلد ہی رجیم چینج ہو جائے گی اور عالمی منظر نامے میں بڑی تبدیلی ہوسکتی ہے۔ سیاسی شنید ہے کہ  یہ سب   2030 سے پہلے ہونا ہے ۔

نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے


طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں  اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔

ٹیگز: