واشنگٹن :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوئٹزرلینڈ مذاکرات کے پس منظر میں ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والی 60 روزہ عبوری جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز میں کسی قسم کا کوئی ٹول ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مستقبل میں آبنائے ہرمز میں کوئی ٹول ٹیکس نافذ ہو سکتا ہے، تو وہ صرف امریکہ ہی کرے گا۔
امریکی صدر نے ڈیموکریٹک پارٹی اور بائیں بازو کے سیاسی ناقدین کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سابق صدر باراک اوباما نے ایران کو اربوں ڈالر فراہم کیے لیکن ان کے خلاف کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے، جس کی وجہ سے ایران نے اوباما کی قیادت کا احترام نہیں کیا اور اسے ہمیشہ کمزور سمجھا۔ انہوں نے جو بائیڈن کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایک کمزور رہنما قرار دیا۔
صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ایران کئی دہائیوں تک اپنی من مانی پالیسیوں پر عمل کرتا رہا، لیکن اب صورتحال یکسر مختلف ہے کیونکہ میری قیادت میں امریکہ دوبارہ ایک انتہائی مضبوط پوزیشن میں آ چکا ہے۔