نیویارک : اقوام متحدہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اگلے 48 گھنٹوں کے دوران غزہ میں انسانی امداد نہ پہنچی تو تقریباً 14 ہزار بچے غذائی قلت کے باعث موت کے منہ میں جا سکتے ہیں۔
ترجمان اقوام متحدہ، اسٹیفن ڈوجارک کے مطابق اسرائیل کی جانب سے امداد کی بندش بدستور جاری ہے اور غزہ میں اب تک کوئی امدادی سامان داخل نہیں ہو سکا۔ اقوام متحدہ کی ٹیمیں کئی گھنٹوں سے کرم ابو سالم کے راستے غزہ میں داخلے کی منتظر ہیں، لیکن انہیں تاحال اجازت نہیں ملی۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں غذائی قلت خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، اور اگر فوری طور پر امدادی سامان نہ پہنچا تو یہ صورتحال تباہ کن انسانی بحران میں بدل سکتی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ "غزہ میں انسانیت سسک رہی ہے، ہمیں فوری طور پر پورے غزہ کو امداد سے بھر دینا ہوگا۔"
حکام کے مطابق گزشتہ روز صرف پانچ امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوئے، لیکن اسرائیلی فوج نے انہیں مقامی آبادی میں تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ان ٹرکوں میں زیادہ تر اشیائے خورونوش اور بچوں کی خوراک موجود تھی، جو اب بھی غزہ کی سرحد کے اندر رکی ہوئی ہیں۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے غزہ میں 80 روز سے مکمل ناکابندی کر رکھی ہے، جس کے باعث لاکھوں افراد شدید غذائی قلت اور طبی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس صورتحال پر ردِعمل دیتے ہوئے برطانیہ نے اسرائیل کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر بات چیت معطل کر دی ہے۔
اقوام متحدہ نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری اقدامات کریں تاکہ غزہ کے مظلوم شہریوں، خصوصاً بچوں کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔