لاہور: صوبائی دارالحکومت لاہور ایک بار پھر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست آ گیا ہے، جہاں کا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 266 تک پہنچ چکا ہے۔ اس سنگین صورتحال کے پیش نظر، پنجاب حکومت نے ایمرجنسی ایکشن پلان فعال کر دیا ہے تاکہ فضائی آلودگی پر قابو پایا جا سکے۔
پنجاب کے مختلف علاقوں میں آلودگی کی شدت بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔ عسکری 10 کا ایئر کوالٹی انڈیکس 414، سید مراتب علی روڈ کا AQI 424، اور ڈی ایچ اے کا AQI 328 تک پہنچ گیا ہے، جو کہ شہریوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ بھارت میں دیوالی کے تہوار کے دوران آتشبازی کے باعث آلودہ ہوائیں پنجاب میں داخل ہو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں لاہور میں سموگ اور دھند میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
پاکستانی حکام نے فضائی آلودگی کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبے بھر میں دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ والی گاڑیوں کو فوری طور پر بند کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ سموگ اور آلودگی کی بڑھتی ہوئی شدت کو دیکھتے ہوئے شہریوں کو ماسک پہننے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ، دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں نئی دہلی نے پہلی پوزیشن حاصل کی ہے، جہاں کا AQI 680 تک پہنچ چکا ہے۔ دہلی کی آلودگی کا اثر لاہور پر بھی پڑ سکتا ہے، جس کے باعث شہر میں شدید سموگ اور دھند کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
سموگ مانیٹرنگ اینڈ کنٹرول سینٹر نے بھی ایڈوائزری جاری کر دی ہے اور عوام کو اس خطرے سے بچنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی درخواست کی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی کے بڑھتے ہوئے اثرات انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں، اور اس بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت کو فوری طور پر مؤثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔