سرینگر/ اسلام آباد: مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں پیش آنے والے حالیہ واقعے نے بھارتی میڈیا کے پاکستان مخالف ایجنڈے اور بھارتی انتظامیہ کے 'فالس فلیگ' طریقہ کار کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔ بغیر کسی تحقیقات اور ٹھوس ثبوت کے پاکستان کو نشانہ بنانے کی کوشش خود بھارتی حکام کی عجلت کے باعث بری طرح ناکام ہوگئی ہے۔
بھارتی پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر نے اس پورے ڈرامے کی قلعی کھول دی ہے۔ پہلگام پولیس اسٹیشن میں واقعے کے محض 10 منٹ کے اندر مقدمہ درج کر کے پاکستان کو نامزد کر دیا گیا۔ جائے وقوعہ سے پولیس اسٹیشن کا فاصلہ 5 کلومیٹر کا دشوار گزار پہاڑی راستہ ہے، جسے طے کرنے میں عام حالات میں بھی ڈیڑھ گھنٹہ (90 منٹ) درکار ہوتا ہے۔اتنی جلدی مقدمے کا اندراج اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ایف آئی آر کا مسودہ واقعے سے بھی پہلے تیار تھا، جو صرف ایک سکرپٹڈ ڈرامے میں ہی ممکن ہے۔
واقعے کے فوراً بعد بھارتی نیوز چینلز نے پیشہ ورانہ اخلاقیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اشتعال انگیزی شروع کر دی۔
واقعے کے ایک گھنٹے کے اندر تمام بڑے چینلز پر ایک جیسا پاکستان مخالف مواد اور "جنگی بیانیہ" نشر ہونا شروع ہو گیا، جو ایک منظم سرکاری مہم کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ بھارتی میڈیا نے حقائق پر بات کرنے کے بجائے مسلمانوں کے خلاف جذبات بھڑکائے اور بغیر تصدیق کے حملے کو 'منظم دہشت گردی' کے طور پر پیش کیا۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اپنی اندرونی سکیورٹی کی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے پاکستان پر الزام تراشی کا سہارا لے رہا ہے۔ پہلگام سے جائے وقوعہ کے فاصلے کو نظر انداز کرنا اور محض چند منٹوں میں پاکستان کو قصوروار ٹھہرانا بھارتی پروپیگنڈا مشینری کی بوکھلاہٹ کو ظاہر کرتا ہے۔
پہلگام واقعہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ بھارتی میڈیا اور ریاست مل کر ایک ایسا خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں جس کا مقصد حقائق کو مسخ کرنا اور خطے میں جنگی جنون کو ہوا دینا ہے۔ عالمی برادری کو بھارت کے ان 'سکرپٹڈ ڈراموں' کا نوٹس لینا چاہیے جو بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ ہیں۔