Get Alerts

امریکہ میں 55 ملین ویزہ ہولڈرز کی سخت جانچ کا آغاز، ویزے منسوخ ہونے کا خدشہ بڑھ گیا

امریکہ میں 55 ملین ویزہ ہولڈرز کی سخت جانچ کا آغاز، ویزے منسوخ ہونے کا خدشہ بڑھ گیا

واشنگٹن: امریکہ کی حکومت نے ملک کی تاریخ میں سب سے بڑے پیمانے پر ویزہ ہولڈرز کی جانچ پڑتال کا اعلان کیا ہے جس کا ہدف 55 ملین افراد ہیں۔ اس اقدام کا مقصد ایسے افراد کی نشاندہی کرنا ہے جو اب امریکہ میں قیام کے قانونی معیار پر پورا نہیں اترتے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے بیان کے مطابق، اس وسیع جانچ سے ویزہ پالیسی کو مزید سخت اور سیکیورٹی کو مضبوط بنایا جائے گا تاکہ امیگریشن نظام میں بدعنوانی روکی جا سکے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے اس سے قبل بھی کئی سخت فیصلے کیے ہیں جن میں مخصوص تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کرنا اور درخواست دہندگان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نگرانی شامل ہے۔ انٹرویوز کا عمل بھی نظرثانی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔

یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب غزہ اور فلسطین کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دیے جانے والے طبی ویزے معطل کیے جا چکے ہیں، جس سے فلسطینی طلبہ، مریض اور دیگر درخواست دہندگان کی امریکہ آمد مشکل ہو گئی ہے۔

2025 میں اب تک چھ ہزار سے زائد طلبہ کے ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں، جن میں وہ طلبہ شامل ہیں جنہوں نے ویزے کی مدت سے زیادہ وقت قیام کیا یا قوانین کی خلاف ورزی کی، یا دہشت گردی کے شبہات کا سامنا کیا۔

اس سال اب تک تقریباً 40 ہزار ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں، جو سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں اسی عرصے میں منسوخ کیے گئے 16 ہزار ویزوں سے کہیں زیادہ ہے۔

یہ وسیع جانچ امریکہ کی جانب سے ویزہ پالیسی پر سخت اقدامات اور سخت نگرانی کا اشارہ ہے۔

ٹیگز: