لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب پراپرٹی اونر شپ آرڈیننس کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے اس پر عملدرآمد روکنے اور فل بنچ تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ آرڈیننس کے تحت دیے گئے قبضے غیر قانونی ہیں اور متعدد افراد کی درخواستوں کے مطابق واپس کیے جائیں۔ عدالت نے حکومت سے سوال کیا کہ آیا ڈی سی کے پاس تمام اختیارات ہونا چاہیے اور کہا کہ یہ قانون عدالتی سپرمیسی اور سول حقوق کے خلاف ہے۔
چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ قانون کے تحت ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹی کے اختیارات غلط استعمال ہو رہے ہیں اور بعض اوقات قبضے پولیس یا پٹواریوں کی مدد سے بغیر قانونی کارروائی کے دلا دیے جاتے ہیں۔
عدالت نے درخواستوں پر اعتراضات دور کرتے ہوئے فل بنچ بنانے کی سفارش کی اور پنجاب پراپرٹی اونر شپ آرڈیننس کے تحت کیے گئے قبضوں کو واپس کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔