راولپنڈی:پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی، تو کشمیر کی آزادی کی صورت میں تمام چھ دریا پاکستان کا حصہ ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی حالیہ جارحیت کا پاک فوج نے مؤثر جواب دیا، جسے دنیا نے دیکھا۔
قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی افواج نے بھارت کے حملے کا بھرپور جواب دیا اور دشمن کے 6 جنگی طیارے مار گرائے۔ ان کے مطابق، "ہم نے جو اہداف مقرر کیے تھے، ان میں سے تمام کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔"
انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کو ایسا سبق سکھایا گیا ہے جو وہ کبھی نہیں بھولے گی۔ "ہم نے بھارت پر حملہ نہیں کیا، بلکہ کھلے عام اعلان کر کے جواب دیا۔ ہمارا ردعمل بزدلوں کی طرح چھپ کر نہیں بلکہ بہادری سے سامنے آیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جسے ورلڈ بینک کی ثالثی میں 1960 میں طے پایا تھا، اور اگر بھارت اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ، "کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے اور وہاں سے نکلنے والے تمام دریا بھی اسی تنازع کا حصہ ہیں۔ اگر کل کو کشمیری عوام پاکستان کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں تو ان تمام دریاؤں پر پاکستان کا حق ہوگا۔
ترجمان پاک فوج نے بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ جھوٹ، فریب اور میڈیا پروپیگنڈے کے ذریعے عالمی رائے عامہ کو گمراہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے کراچی، امرتسر اور گولڈن ٹیمپل پر جھوٹے دعوے کیے گئے، جنہیں عالمی برادری نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔
"بھارت نے تابکاری، دہشت گردوں کی تصاویر اور پاکستانی وزیراعظم کی محفوظ مقام پر منتقلی جیسے کئی جھوٹے دعوے کیے، جن میں کوئی صداقت نہیں۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ حالیہ فوجی کارروائیوں میں تینوں افواج کے درمیان مثالی ہم آہنگی رہی، اور پوری قوم نے متحد ہو کر بھارتی جارحیت کا مقابلہ کیا۔ ان کے بقول، "یہ فضائی جھڑپ آئندہ دہائیوں تک عسکری اداروں میں ایک ماڈل کے طور پر زیر بحث رہے گی۔"
غزہ کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ وہاں جو کچھ ہو رہا ہے وہ کھلی نسل کشی ہے اور عالمی برادری کی خاموشی شرمناک ہے۔ "یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ صرف مضبوط دفاع ہی کسی قوم کی بقاء کی ضمانت ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں اور دلتوں کے ساتھ جو ناروا سلوک کیا جا رہا ہے، وہ امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ان کے مطابق، "جب تک بھارت اندرونی انتہا پسندی اور بیرونی جارحیت کے رویے کو ترک نہیں کرتا، حقیقی امن ممکن نہیں۔"