امریکا میں پاکستانی نژاد طالبہ پر حملہ، تیزاب پھینکنے سے آنکھیں ضائع

امریکا میں پاکستانی نژاد طالبہ پر حملہ، تیزاب پھینکنے سے آنکھیں ضائع

نیویارک: امریکی شہر نیویارک کی رہائشی ایک پاکستانی نژاد طالبہ کو نامعلوم ملزمان نے تیزاب پھینک کر آنکھوں کی بینائی سے محروم کر دیا ہے۔ ملزم واقعہ کے بعد موقع سے فرار ہو گئے۔

بتایا جا رہا ہے کہ اس حادثے کا شکار ہونے والی لڑکی کا نام نافیہ اکرام ہے۔ 21 سالہ میڈیکل کی طالبہ کو واقعے کے فوری بعد ہسپتال داخل کرایا گیا جہاں انھیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نافیہ اکرام اپنی والدہ کےساتھ گاڑی سے اتر رہی تھیں کہ ان کے گھر کے سامنے اچانک نامعلوم افراد نے ان پر حملہ کر دیا۔

انسانی حقوق کی تنظیوں کی جانب سے اس واقعے کو مسلم مخالف واقعات سے جوڑا جا رہا ہے۔ این جی اوز کی جانب سے عام شہریوں خصوصاً مسلمانوں کی حفاظت کیلئے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

21 سالہ نافیہ اکرام نیویارک کی مقامی یونیورسٹی کی طالبہ ہے جہاں سے وہ شعبہ طب کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں جبکہ ان کی والدہ بھی صحت عامہ کے شعبے سے وابستہ ہیں اور ایک ہسپتال میں ملازم ہیں۔

پولیس انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات پر غور کیا ہے تاہم واقعے کے دیگر پہلوؤں پر بھی غور کیلئے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے کہ آیا نافیہ اکرام سے کسی کو ذاتی عناد تو نہیں تھا؟

نافیہ اکرام کی والدہ نے پولیس کو ابتدائی تفتیش میں بتایا کہ وہ دفتر سے واپسی پر اپنی بیٹی کو یونیورسٹی سے گھر لے کر پہنچی ہی تھیں کہ ایک شخص بھاگ کر ان کے پاس آیا اور تیزاب پھینک کر فرار ہو گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میری بیٹی نافیہ اکرام پر ایک منصوبہ بندی کے تحت تیزاب پھینکا گیا ہے۔ پولیس کو چاہیے کہ وہ اسی پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی تفتیش کا عمل آگے بڑھائے۔