Get Alerts

افغانستان میں طالبان کے خلاف مزاحمت میں تیزی: ایک سال میں 401 آپریشنز، سینکڑوں طالبان ہلاک

افغانستان میں طالبان کے خلاف مزاحمت میں تیزی: ایک سال میں 401 آپریشنز، سینکڑوں طالبان ہلاک

کابل/تاجکستان: افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف برسرِ پیکار مسلح گروہ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF) نے گزشتہ ایک سال کی کارروائیوں کی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں طالبان کے خلاف مزاحمتی کارروائیوں میں غیر معمولی شدت آئی ہے۔
این آر ایف کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق طالبان کو جانی اور مالی طور پر بڑا نقصان پہنچایا گیا ہے۔ رپورٹ کے   مطابق  نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران طالبان کے خلاف کل 401 ٹارگٹڈ آپریشنز کیے گئے۔ان کارروائیوں کے نتیجے میں 651 طالبان ہلاک جبکہ 579 زخمی ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ کارروائیاں صرف پنجشیر تک محدود نہیں رہیں بلکہ کابل سمیت افغانستان کے دیگر صوبوں میں بھی طالبان کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
این آر ایف کے سربراہ احمد مسعود نے اپنے تازہ بیان میں طالبان حکومت کی ساکھ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ  طالبان داخلی طور پر افغان عوام کا اعتماد ٹھیس پہنچانے اور عالمی سطح پر اپنے وعدوں سے انحراف کرنے کے باعث اپنی قانونی حیثیت (Legitimacy) مکمل طور پر کھو چکے ہیں۔
احمد مسعود کا کہنا ہے کہ طالبان کا جبر اور بین الاقوامی برادری سے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی افغان عوام کو مسلح مزاحمت پر مجبور کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک افغانستان میں ایک شمولیتی اور عوامی حکومت قائم نہیں ہوتی، مزاحمت کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

ٹیگز: