Get Alerts

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ہارورڈ یونیورسٹی کو غیرملکی طلبا کو داخلہ دینے سے روک دیا گیا

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ہارورڈ یونیورسٹی کو غیرملکی طلبا کو داخلہ دینے سے روک دیا گیا

واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ہارورڈ یونیورسٹی کو غیرملکی طلبا کو داخلہ دینے سے روک دیا۔ یہ فیصلہ جمعرات کے روز سامنے آیا، جس کے بعد تعلیمی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ  ہارورڈ یونیورسٹی کا اسٹوڈنٹ اینڈ وزیٹر ایکسچینج پروگرام (SEVP) کا سرٹیفکیٹ منسوخ کر دیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اب یونیورسٹی نہ صرف نئے غیرملکی طلبا کو داخلہ نہیں دے سکتی بلکہ موجودہ غیرملکی طلبا کو بھی کسی اور ادارے میں ٹرانسفر کرنا ہوگا۔

یہ قدم ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یونیورسٹی میں جاری ایک مبینہ تفتیش کے سلسلے میں اٹھایا گیا ہے، جس کی تفصیلات واضح نہیں کی گئیں۔ سیکریٹری ہوم لینڈ سیکیورٹی کرسٹی نوم نے ہارورڈ کو خط لکھ کر اس فیصلے سے آگاہ کیا۔

ہارورڈ یونیورسٹی نے اس اقدام کو "غیر قانونی" اور "نقصان دہ" قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا۔ یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف تعلیمی ادارے بلکہ امریکہ کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچے گا۔

یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب ٹرمپ انتظامیہ نے مارچ میں ہارورڈ یونیورسٹی پر الزام لگایا کہ وہ کیمپس میں یہود مخالف رویے کے خلاف مؤثر اقدامات نہیں کر رہی۔ اس کے بعد سے یونیورسٹی کے اربوں ڈالر کے وفاقی معاہدے اور گرانٹس بھی زیرِ غور ہیں۔

ٹیگز: